کچھ اپنے بارے میں

me.jpg

 

ایک زمانہ تھا جب علم اور عالم کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ شاعروں اور ادیبوں کی ایک جھلک دیکھنے لوگ بیتاب رہتے تھے۔ ایک زمانہ یہ ہے ، جسمیں کہا جاتا ہے۔ کہ ”جو کوئی اور کام نہیں کر سکتا وہ شاعر یا ادیب بن جاتا ہے” ۔

ہم بھی اِسی زمانے کے لوگ ہیں، اگرچہ شاعر یا ادیب تو نہیں ہوں مگر اردو زبان کا ادب ہمیشہ سے میرے لیے پر کشش رہا ہے ، شاید اِس لیے بھی کہ ” مجھے کرنے کو کوئی اور کام ہے جو نہیں”۔

اُردو میری مادری زبان نہ ہونے کے باوجود بھی میں فروغِ اُردو کا ہمیشہ سے خواہش مند رہا ہوں مگر کیا ہے کہ تاحال ایسا کوئی موقعہ نہیں ملا جس سے اِس بے مثال زبان کی خدمت کر سکوں۔ آٹھ سال پہلے جب کمپیوٹر کے ”الف” ”بے” سیکھ رہا تھا تب بھی یہ محسوسات تھے کہ دوسری زبانوں کی طرح ”آئی ٹی” کے میدان میں اُردو کی ترویج ہونی چاہیے۔ آج جبکہ کمپیوٹر سے کسی حد تک شناسائی ہے تب بھی یہ بات شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ اردو زبان کمپیوٹر کے میدانوں میں بہت پیچھے ہے۔ اِس میدان کا کھلاڑی  نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سافٹ وئیر تو بنانے سے رہا۔ البتہ سوچا کہ ”بلاگ” سے ہی خدمتِ اُردو کا آغاز کیا جائے۔

سوچ اور عمل میں یہی وہ فرق ہے جسے علامہ اقبال اپنے ایک شعر میں بیان فرماتا ہے کہ۔ ”بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق ۔۔۔ عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی”۔ سوچ کا نتیجہ تو آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ جبکہ اِس پر عمل کرنا انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ کیونکہ اُردو ادب اتنا ہی وسیع ہے جتنا کہ ایک ذی فہم سوچ سکتا ہے۔ بہرحال اب بیڑا اُٹھایا ہے تو کچھ نہ کچھ تو یہاں پیش کرنا ہی پڑے گا۔

انشااللہ کوشش یہ ہوگی کہ کہ نہ صرف اُردو ادب کے حوالے سے بلکہ تہذیب و تمدن کے حوالے سے بھی یہاں کچھ نہ کچھ پیش کیا جائے۔ عکس بندی سے مجھے خود بھی شوق ہے اور دوسروں کا اچھا کام بھی ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔ اِس کے علاوہ مصوری اور باقی جتنی بھی چیزیں میرے لیے باعثِ کشش ہیں ، وقتاً فوقتاً آپ کو انشااللہ اِس بلاگ پر ملتے رہیں گے۔ اپنی کوششوں میں میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں۔ یہ مجھے صرف آپ لوگ ہی بتا سکتے ہیں۔

اپنی آرا سے میرا حوصلہ بڑھاتے رہا کریں۔

سید طیب حسین
 

10 Comments

  1. 9sheen said,

    May 10, 2007 at 2:03 pm

    Great work….Wonderful Effort….keep it up!

  2. doctimes said,

    May 11, 2007 at 5:50 am

    نوشین صاحبہ، آپ کے آنے اور تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔ اُمید ہے آپ ائیندہ بھی آتی رہا کریں گی اور میرے کام پر تبصرہ کرتی رہا کریں گی۔ انشااللہ

  3. May 12, 2007 at 9:47 am

    اسلام علیکم۔۔جنا ب سیّد طیب حسین صا حب ’ عرف ڈاک ٹا ئمز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوچ اور عمل کے د ر میا ن کی اس سعی کی آ پ کو مبا ر ک با د دی جا تی ہے ۔۔۔۔۔۔ ا و ر حو صلہ بنا ئے ر کھنے کی د عا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کو ن کہہ سکتا ہے کہ آ پ کی ما د ر ی ز با ن ا ر دو نہیں ہے ۔
    کہیں آ پ کا یہہ ا حسا س آ پ کو پیچھے نہ لے جا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں ا کیلا ہی چلا تھا جانب منز ل
    مگرلو گ آ تے گئے اور کا ر و اں بنتا گیا ۔۔۔۔۔

    کے مصدا ق بڑ ھتے ر ہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    و ا سلا م

    نسیم سا جدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. اجنبی said,

    May 12, 2007 at 10:18 am

    وعلیکم السلام،

    جہاں آپ جیسے پر خلوص اور کاروان بنانے والے لوگ ہوں وہاں پیچھے ہٹنے کا تصور بھی گناہ ہے۔ نسیم صاحبہ آپ کے تشریف لانے اور تبصرہ کر نے کا بہت شکریہ۔ اُمید ہے آپ ائیندہ بھی اِسی طرح حوصلہ بڑھاتی رہا کریں گی۔

  5. Hanfi said,

    February 8, 2009 at 11:35 am

    Why don’t you include a urdu key board in your blog so that we can comment in urdu.

    • اجنبی said,

      October 17, 2009 at 7:35 am

      میں کرتا ہوں کچھ اِس سلسلے میں ۔

  6. JAwad said,

    October 13, 2009 at 5:13 am

    A o A

    sir aap ki aik aik baat dil ko choo jane wali hai

    aur

    MASHA ALLAH

    hr post bht hi umdaaaaa aur sbaq aamoz hai

    grtt blog

    keeeep it up and keeep sweeeet

    ALLAH HAFIZ

    • اجنبی said,

      October 17, 2009 at 7:31 am

      جواد صاحب یہ آپ کی محبت ھے۔ بلاگ پر آنے اور تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ ۔

  7. Seem said,

    October 15, 2009 at 9:02 am

    ……بہت اچھا لکھتے ہیں آپ
    ایسے ہی لکھتے رہیے


Post a Comment