May 30, 2007 at 9:55 pm (غزل)

جب تصوّر میرا چُپکے سے تجھے چُھو آئے
اپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خُوشبو آئے
پیار نے ہم میں کوئی فرق نہیں چھوڑا باقی
جھیل میں عکس تو میرا ہو نظر تُو آئے
مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تھکتے رہنا
رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے
جب کھبی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کو
میری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازُو آئے
جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہوگی روشن
مُجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جُگنو آئے
کتنا حساس میری آس کا سناٹا ہے
کہ خاموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگھرو آئے
مجھ سے ملنے کو سرِ شام کوئی سایہ سا
تیرے آنگن سے چلے اور لبِ جُو آئے
اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیل
وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادُو آئے
3 Comments
May 28, 2007 at 5:24 am (ذرا سوچیئے)
”ہم” ہم ہیں اور ”وہ” وہ ۔ ہمارے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ مشرق اور مغرب میں ہونا چاہیے ۔ ہم معززینِ مغرب ہو کر بھی ”وہ” نہیں بنتے وہ خوارِ مشرق ہو کر بھی ”ہم” بن جاتے ہیں ۔ ہمارے بیچ صرف فرق نہیں تفریق ہے ۔ جو کام ہم کرتے ہیں وہ کرنا نہیں چاہتے اور جو کام وہ کرتے ہیں ہم کر نہیں سکتے ۔ ہماری سوچیں بلند ہیں اور کام پست اُن کی سوچیں پست ہیں اور کام بلند ۔ ہم سب مسلمان ہیں اور وہ سب صرف سلمان (سلمان رُشدی) ۔ ہم آپسمیں لڑ کر تماشہ دکھاتے ہیں اور وہ ہمیں لڑا کر تماشہ دیکھتے ہیں ۔ ہم ترقی پذیر ہیں اور وہ ترقی یافتہ ۔ ہم عورتوں کی چادریں چھین کر فخر کرتے ہیں اپنی ترقی پر اور وہ ہم سے چادریں چنوا کر فخر کرتے ہیں اپنی عقل پر ۔ ہم دل کی بات مانتے ہیں وہ دماغ کی ۔ ہمارے ہاں دِل تھوک کے حساب سے ملتے ہیں اور ان کے ہاں دماغ ۔ ہم سارے عاشق ہیں وہ سائنسدان ۔ ہم اس لیے ترقی یافتہ نہیں ہیں کہ ہم سہل پسند ہیں وہ اس لیے ترقی یافتہ ہیں کہ وہ سہل پسند نہیں ہیں ۔ ہم گفتار کے غازی ہیں وہ عمل کے ۔ چاند پر ہم اس لیے ابھی تک نہیں پہنچ سکے کہ ہم تنقید کرتے ہیں اصلاح نہیں کرتے ، وہ تنقید نہیں کرتے چاند پر پہنچتے ہیں ۔ سُنا ہے تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے اور اصلاح مشکل ترین ۔ ہم اس لیے تنقید کے ماہر ہیں کہ یہ آسان کام ہے وہ اس لیے تنقید کے ماہر نہیں ہیں کہ یہ آسان کام ہے ۔
کھبی ہم حکمران ہوا کرتے تھے ، آج وہ حکمران ہیں ۔ ہمارے ہاں نا پسندیدہ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی ہے ، وہ ہماری تاریخ ہم پر دہراتے ہیں ۔ ہم ملازمت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں ملازمت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ ملازمت اس لیے کرتے ہیں کہ ملازمت کو اُن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہم چوری کرتے ہیں اور پھر سینہ زوری بھی ، وہ ہماری چوری پکڑ کر سینہ زوری کرتے ہیں ۔ ہم جھوٹ بے حساب بولتے ہیں ، وہ حساب سے بولتے ہیں ۔ ہم کام کرکے سوچتے ہیں ، وہ سوچ کر کام کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ہمارے ملک میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ہم با صلاحیت ہیں اور وہ صلاحیت خریدنے والے ، اس لیے ہمارے ملک میں صلاحیت کی کمی ہی کمی ہے ۔ ہم دہشت گرد ہیں اور وہ امن و آتشی کے پیروکار ۔ ہم صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ، وہ صرف اللہ پر بھروسہ اس لیے نہیں رکھتے کہ وہ محنت کرنا جانتے ہیں ۔ اسلام ہمارا دین ہے ، واقفیت وہ رکھتے ہیں ۔ غور و خوض اور تحقیق کرنے کا حکم ہمیں ملا ہے ، مگر عمل پیرا وہ ہیں ۔ ایڈز ان کا پھیلایا ہوا ہے مگر مبتلا ہم ہیں ۔ ہم مانگنے والے ہیں ، وہ دینے والے ۔ المختصر، ”وہ” وہ ہیں اور ”ہم” ہم ۔
( خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہیں بدلتا ۔ القرآن )
طیب
2 Comments
May 26, 2007 at 6:35 am (اِک شعر)

یہ بَر دوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں
مہک رہی ہے فضاءِ ہستی ، تمام عالم بہار سا ہے
Leave a Comment
May 26, 2007 at 5:52 am (قطعہ)
کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو
بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو
آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں
میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو
Leave a Comment
May 26, 2007 at 4:01 am (بلاعنوان)

اِس شاہکار تصویر پر دُنیا بھر سے لاکھوں تبصرے ہو چکے ہیں ۔ مگر جس ذہن نے اس کو تخلیق کیا ہے اور جو سوچ کے تخلیق کیا ہے ۔ اُس کا حق ابھی تک کسی نے ادا نہیں کیا ۔ ورڈ پریس اور میرے روزنامچے کے قارئین کے لیے میں اسے مزید تبصروں کے لیے پیش کر رہا ہوں ۔ شاید آپ میں سے کسی کا تبصرہ اس کا حق ادا کر دے ۔
,شکریہ
سید طیب حسین
4 Comments