
ایک عام سا دِن تھا آج بھی۔ جِس طرح کے دِن ہوتے ہیں ”سکھر” میں، ”سندھ” میں یا پاکستان میں۔ سکھر شہر آج اسم بامسمٰی بنا ہوا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہاتھا جیسے اِس شہر کو قدرت نے یومِ جزا سے پہلے ہی داخلِ جہنم کیا ہے۔مگر میں دیکھ رہا تھا کہ معمولاتِ شہر میں ذرا برابر فرق نہیں تھا۔
تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں چونکہ ہمہ وقت سفر میں رہتی ہیں۔ اِس لیے ایسے کمپنیوں کے پاس جو سامان ہوتا ہے وہ اِس بات کو مدِ نظر رکھ کے خریدا جاتا ہے ۔ کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں آسانی ہو۔ میں بھی چونکہ ایک ایسے ہی کمپنی میں کام کرتا ہوں اِس لیے یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس کمرے نُما چیز میں میں بیٹھا ہوں اُس کو ملازمین ”کنٹینر” کہتے ہیں۔ میں بھی اِس وقت ایک کنٹینر میں بیٹھا ہوں۔ یہی کنٹینر میرا دفتر بھی ہے اور اِسی میں مجھے سونا بھی پڑتا ہے۔ باہر سے اِک ڈربہ نما چیز نظر انے والی یہ شئے اندر سے ایک عجوبہ روزگار ہے۔ بہترین انداز میں اس کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ اور اِس میں ہر قسم کی سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس دفتر یا کنٹینر کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ اِس کا محلِ وقوع اِن دنوں سکھر شہر ہے۔
سہ پہر کے چار بجا چاہتے ہیں۔ ایک مہمان میرے ساتھ دفتر میں تشریف فرما ہے۔ باہر 46 درجے کی گرمی پڑ رہی ہے۔ ہم اندر 18 درجے میں بیٹھے ہیں۔ باہر 46 درجے کی گرمی کا مزا چھکے بغیر واکی ٹاکی پر میں نے کہہ دیا ہے کہ میرے دفتر میں ایک مہمان تشریف رکھتا ہے اور اس کی خاطر طواضع کی جائے۔ ویٹر نے آ کر اُس کی خدمت کی۔ مہماں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔ اُس کے تھوڑی دیر بعد ویٹر آتا ہے، سامان اُٹھانے۔ صرف تھوڑی دیر کے لیے مجھے دیکھتا ہے پھر کہتا ہے، ”سر یہاں تو بہت ٹھنڈ ہے جبکہ باہر تو گرمی نے ہمارا برا حال کر دیا ہے” ۔ میں نے سر اُٹھا کر اُس کے سانولے چہرے کی طرف دیکھا جو پسینے سے تر بتر ہو رہا تھا۔ پھر اُس کے صاف شفاف سفید لباس کی طرف دیکھا جو پسینے سے بھیگ گیا تھا۔ بس پھر مجھ سے بھی رہا نہ گیا۔ اُٹھ کر فوراً ہی میں نے کمپیوٹر اور ائے سی بند کیے۔ اور اُس کے پیچھے 46 درجے میں نکل گیا۔ یہ جانے بغیر کہ باہر نکل کر میں جاوءں گا کہاں۔