جو یا د آ ؤں


 

گیا زمانہ بُہت سُہانا

جو یاد آؤں تو لوٹ آنا

وہ آنکھوں آنکھوں میں بات کرنا

وہ باتوں باتوں میں رات کرنا

ہنسی چُھپانے کو لب کے آ گے

حسیں ، کومل سے ہاتھ رکھنا

کھبی ہنسانا

کھبی رُ لانا

جو یاد آؤں تو لوٹ آنا

ہمیں تمھاری ہی جستجو ہے

صرف تمھاری ہی آرزُو ہے

یہ بات تُم بھی کھبی تو سمجھو

ہماری چُپ میں بھی گُفتگو ہے

سمجھ سکو تو ہمیں بتانا

جو یاد آؤں تو لوٹ آنا

 

ہند وستا نی خا تون ، یا ہُو اور شا د ی

 

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، رات کے تین بج رہے تھے ۔ رات کی خاموشی نے سب کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ میں اپنی دُنیا میں مگن تھا ۔ باہر رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی ۔ کہ اچانک میری دُنیا ، میری سوچوں میں خلل ڈالا گیا ۔ اور خلل ڈالنے والی ایک ہندوستانی خاتون تھی ۔ جس کو نیند نہیں آ رہی تھی اور انٹرنیٹ پر اُس کا کسی سے گپ شپ کرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔ کیونکہ اُس کے جتنے رابطے والے لوگ تھے اُن میں سے کوئی بھی اُس سے رابطہ کرنے موجود نہیں تھا ۔ اور اس کو تو بہرحال وقت گُزارنا تھا ۔ شومئی قسمت کہ اس کا رُخ پاکستان میں میری طرف مُڑ گیا اور رات کے تین بجے ”سکائپی” پر ہماری گپ شپ کا آغاز ہوا ۔ میں سونا چاہتا تھا ، کیونکہ مجھے صبح سویرے کچھ ضروری کام بھی نمٹانے تھے مگر اِس ہندوستانی خاتون کا دِل بھی رکھنا چاہتا تھا ۔ پس میں نے انسانیت کو آرام پر ترجیح دی اور سونے کا اِرادہ ترک کر دیا ۔ اُس خاتون سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ ہوئی اور نیٹ میں آنے والے مسئلے نے یہ سلسلہ ختم کرایا ۔ یہ ہماری پہلی ادھی ملاقات تھی ۔ کسی زمانے میں چھٹی کو ادھی ملاقات تصور کیا جاتا تھا ، مگر زمانے کی جدیدیت کے ساتھ اس کا استعمال کاغذ کی بجائے برقیت پر ہونے لگا ۔

اِس سلسلے میں مجھے عرض کرنے دیں کہ نیٹ پر گپ شپ کے حوالے سے میں شروع ہی سے بہت خوش قسمت رہا ہوں ۔ اور خواتین کے معاملے میں تو بہت زیادہ ۔ اگر کسی خاتون سے تعارف ہو جاتا ہے اور میں اپنے مخصوص انداز میں اُس سے گپ شپ لگا لوں ، تو سمجھو کہ وہ گئی اپنے ہوش و حواس سے ۔ مگر کیا ہے ، کہ زندگی اتنی مصروف ہوتی ہے اور آپ کو ایک مشین کی طرح کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے اِن فضولیات کے لیے وقت کم ہی ہوتا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نیٹ پر میں بہت کم لوگوں کو وقت دے پاتا ہوں ۔ اور رہی آن لائن والی بات تو میرے تمام پیغام رساں چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں ۔ کُھلے تو نہیں معلوم کس کے انتظار میں ہوتے ہیں مگر دستک دینے والوں پر کوئی پابندی نہیں ۔ ہر کوئی دستک سے سکتا ہے ۔ کیونکہ مہمانوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں ۔ بقول شاعر ، ”دروازہ کُھلا رکھنا شائد کہ وہ آ جائے” ۔ کواڑ تو ہم نے نہ جانے کب سے کھلے رکھے ہیں مگر جس کے لیے کھلے رکھے وہ زحمت نہیں کرتے اور جس کا انتظار نہیں ہوتا وہ آ جاتے ہیں ۔

ہندوستانی خاتون بھی دستک دے کر ہی آئی تھی ، مگر لگتا تھا اس کا واپسی کا کوئی اِرادہ نہیں ہے ۔ اِرادے مضبوط ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔ اس کے ارادے بھی کافی مضبوظ تھے اور اس نے مجھے آخر کار پا ہی لیا ، یعنی کہ میرے آرام کے لمحات غیر محسوس طور پر اس کے نام ہوتے چلے گئے ۔ رات آرام کے لیے ہوتی ہے مگر میری راتیں اس سے گپ شپ میں گزرنے لگے ۔ اور صبح کو زندگی محنت طلب کام کے گرد گھومتی تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کروں تو کیا کروں ۔ خیر سلسلہ آگے بڑھتا رہا ، لکھنے لکھانے سے بات بولنے پر آگئی ۔ پھر گھنٹے لمحوں کی طرح اُڑ جاتے تھے طویل باتوں میں ۔ اُس کے پاس کیمرہ تھا ، وہ کیمرہ بھی چلانے لگی میرے پاس کیمرہ نہیں تھا ، مگر وہ اس معاملے میں بھی قناعت پسند ثابت ہوئی اور میری تصویروں کو بھی خزانہ سمجھنے لگی ۔ عمر تو اُس نے اپنی بتیس سال بتائی تھی مگر دیکھنے پر وہ بڑی عمر کی لگتی تھی ۔ خاصے خوشحال گھرانے سے تعلق ہے اور خود بھی ملازمت کرتی ہے ۔ تیس سال کی عمر میں طلاق ہو گئی تھی اور ابھی اپنی زندگی اپنی دس سالہ بیٹی کے لیے جی رہی ہے ۔ عیسائی مسلک سے تعلق ہے ، مگر مسلمانوں کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتی ہے ۔ شراب اور رقص کی بہت شوقین ہے ۔ رنگ اس کا گندمی ہے ، جس نے اس کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ مگر لہجے میں بَلا کی خود اعتمادی ہے ۔ جھوٹ کھبی نہیں بولتی اور نہ ہی بولنے والوں کو پسند کرتی ہے ۔ پہلی دفعہ مجھے ”آئی لَو یُو” کہنے کے لیے اَجازت طلب کی ، پھر اجازت کی زحمت گوارہ نہیں کرتی تھی ۔ انتہائی صاف اور سیدھی بات کرنے والی تھی مگر مجھے آخری لمحات تک اپنے اِرادوں سے بے خبر رکھا ۔ پتہ نہیں کیوں؟ ۔ دہلی میں رہتی ہے اور اجمیر شریف کے عُرس میں شرکت کے لیے مجھے کئی بار دعوت دے چُکی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھی کئی دعوتیں دے چکی ہیں مگر میں سختی سے ان دعوتوں کو مسترد کر چُکا ہوں ۔

ابھی کل کی ہی بات ہے ۔ حسبِ معمول ہمارے درمیان گپ شپ ہو رہی تھی ۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔ کہ میری ایک بات نے طُوفان کھڑا کر دیا ۔ بات صرف اتنی تھی کہ اُس نے نہ تو کھبی پوچھا تھا میری ذاتی زندگی کے بارے میں اور نہ ہی میں نے بتانے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔ کل وہ سرسری انداز میں پوچھ رہی تھی اور میں صاف صاف اُس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا ۔ مگر جیسے ہی میری شادی کے بارے میں اُس نے سُنا ، محترمہ غائب ہو گئی ۔ اور میرے نام اپنے آخری پیغامات یہ چھوڑ گئی ۔

tayeb (02:01:47 AM): Offline Ho Gaii Ho Kya?
angela (02:02:58 AM): nahi …i said…goodbye….to you….and by d way…CONGRATULATIONS too!
tayeb (02:03:15 AM): Itni Jaldi Kahaan Ja Rahee Ho?
tayeb (02:03:28 AM): Thank You Very Much Indeed For Wishing
angela (02:05:13 AM): ok…but i wont say welcome….coz i dont wish to talk to u anymore….goodbye…tc…God bless you

خُدا حافظ انجیلا برنارڈ ۔ آگر آپ اپنے اِرادوں کو پہلے ظاہر کرتیں تو میں یقیناً آپ کی غلط فہمیاں دُور کر دیتا ۔ مولا سلامت رکھے ۔

گُفتگو کے لمحوں میں


گُفتگو کے لمحوں میں

دیکھ ہی نہیں پاتے

ہم تمھارے چہرے کو

تم ہماری آنکھوں کو

آج ایسا کرتے ہیں

چشم و لب کو پڑھتے ہیں

بات چھوڑ دیتے ہیں

جانے کیا لمحہ ہوگا

جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے

گر کھبی جُدا ہوگا

آج ایسا کرتے ہیں

ضبطِ جاں پرکھتے ہیں

ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں

کاش کوئی سمجھا دے

لوگ کِس طرح دِل کی

منزلیں الگ کر کے

ساتھ چھوڑ دیتے ہیں

آج ایسا کرتے ہیں

بے سبب بکھرتے ہیں

ذات توڑ دیتے ہیں

 

تُو تھام لے جو د امن


 

میری آوارگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

مدہوشی تنہائی ہے

بے چینی سی چھائی ہے

شام سویرے ہر لمحہ

یاد مجھے تیری آئی ہے

نہ جا نہ جا ، ایسے میں کہیں نہ جا

نگاہوں میں بسا لے تُو
مجھے

آ جا آ جا

آجا او جانِ جاناں

پناہوں میں چھپا لے تُو

میری دِل کی لگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

کتنا دِلکش منظر ہے

چھایا ہے تیرا جادُو

دِلوں کی بے تابی ہے

نظروں میں ہے تُو ہی تُو

جاگی جاگی

تمنا جاگی جاگی

خیالوں پہ بھی چھایا نشہ

لاگی لاگی

لگن ایسی لاگی

کہیں بھی اور لاگے نہ جیا

میری ہر تُشنگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

اِک روشن ستا رہ تھا نہ رہا

 

انسان کی پہچان انسانیت سے ہے ۔ جو بھی اس دولت سے مالا مال ہوتا ہے ، دِلوں پر ہمیشہ اَنمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے ۔ نجات علی عرف واوُ بھی ایک ایسا ہی انسان تھا ۔ ایک دِن پہلے کون سوچ سکتا تھا کہ کل کا سورج طلوع ہوگا تو نجات علی اس دنیا میں اپنی سانسیں پوری کر چکا ہوگا ۔ بس یہی فلسفہِ حیات ہے ۔ کہ انسان کو اپنی موت کا پتہ نہیں ہوتا ۔ موت تو موت ہے ایک اٹل حقیقت ، مگر یہ اٹل حقیقیت اگر بندوقوں سے ثابت ہو جائے تو ہمیشہ ایک قیمتی زندگی کی ضیاع کا افسوس رہتا ہے ۔

وہ میرے خالہ زاد سید سلطان حسین کا بہت گہرا دوست تھا ۔ اِس لیے اُس کا ہمارے ہاں بہت آنا جانا تھا ۔ اور اُس کا یہی آنا جانا ہماری شناسائی کا سبب بنا اور ایک ہیرے جیسے انسان سے قدرت نے متعارف کروایا ۔ بچپن سے اُس کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھا کرتا تھا ۔ زندگی کے سفر میں اس کو مختلف میدانوں میں سرگرم دیکھا ۔ کرکٹ کا بے حد شوقین تھا ۔  کرکٹ خود بھی کھیلتا تھا اور دوسروں کو بھی کھیلنے کی ترغیب دیتا تھا ۔ اِس کی وجہ میری سمجھ میں یہی آتی ہے کہ شائد اُس کا خیال یہ ہو کہ نوجوان نسل صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ وجہ جو بھی ہو یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک وہ کرکٹ کے میدانوں میں رہا ، آس پاس کے دیہاتوں کے نوجوان بڑے شوق سے کرکٹ کھیلتے دیکھے گئے ۔ اور جب نجات علی نے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا تو کرکٹ کی ساری رنگینیاں پھر ماند پڑ گئیں ۔

نجات علی پیشے کے لحاظ سے ایک معلم تھا ۔ مرتے دم تک علم کی روشنی بانٹتا رہا ۔ اُس کی موت بھی ”علمی” تھی ۔ اُس کو عین اُس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ سکول میں قدم رکھنے والا تھا ۔ خود معلم تھا ، علم کا شوق تھا اور ساری زندگی قوم کے نونہالوں کو زیورِ علم سے آراستہ کیا تو خدا نے موت بھی کیسی عطا کی ، جب وہ بابِ علم میں داخل ہو رہا تھا ۔ بس یہ اُسی ذات کی حکمت ہے جسے ہم جیسے جاہل نہیں سمجھ سکتے ۔

نجات علی ایک ہنس مکھ انسان تھا ۔ اگرچہ اس کی پوری زندگی غموں سے پُر تھی ۔ مگر کسی نے اس کو رنجیدہ نہیں دیکھا ۔ اس نے کم عمری میں ہی والدین کا غم دیکھا پھر نوجواں بھائی کا غم دیکھا ۔ یہ قصہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا ، بلکہ اس نے نوجوان بھتیجے کا غم بھی سہا ۔ اتنے سارے غم دِل میں پل رہے ہوں تو انسان ظاہری طور پر بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ، مگر اس بہادر انسان نے اپنا غم کھبی بھی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ کیونکہ کہ دِلوں کے اپنے معاملے ہوتے ہیں اور دُنیا کے اپنے ۔ اِسی فلسفے سے شائد وہ آشنا تھا ، اس لیے اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی تھی ۔ اور اپنے غموں کو اپنے دِل تک محدود رکھنے میں بہرحال وہ ہمیشہ کامیاب رہا ۔

چند برس پہلے کی بات ہے ، اُس کے دِل میں نجانے کیا سمائی کہ وہ دِل و جان سے رُوحانیت کی طرف مائل ہوا ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کمال کی حدوں تک پہنچ گیا ۔ دور دور سے لوگ اس سے فیض حاصل کرنے آتے تھے ۔ مجھے بھی چند مجرب دُعائیں سکھائی تھیں ، جس کی برکت و تاثیر آج بھی قائم ہے ۔ مجھے جب بھی ملتا تو وظائف کے بارے ضرور پوچھتا ۔ اور میرا جواب مثبت پا کر بہت خوش ہوتا تھا ۔ رب اور بندے کے بیچ وسیلہ بننا یقیناً ایک مستحسن عمل ہے اور اس پر خوش ہونا بھی چاہیے ۔ پس اُس کی خوشی بھی ہر لحاظ سے بجا ہوتی تھی ۔  آج جب وہ اس فانی دنیا میں نہیں ہے ، میں نہ صرف ایک قیمتی انسان کی کمی محسوس کر رہا ہوں بلکہ ظالموں نے مجھے ایک روحانی اُستاد سے بھی محروم کر دیا ہے ۔ بقول شاعر ، ”ایک روشن ستارہ تھا نہ رہا ” ۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے ، ہر قسم کی گناہِ صغیرہ و کبیرہ کی مغفرت عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین