ہند وستا نی خا تون ، یا ہُو اور شا د ی

 

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، رات کے تین بج رہے تھے ۔ رات کی خاموشی نے سب کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ میں اپنی دُنیا میں مگن تھا ۔ باہر رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی ۔ کہ اچانک میری دُنیا ، میری سوچوں میں خلل ڈالا گیا ۔ اور خلل ڈالنے والی ایک ہندوستانی خاتون تھی ۔ جس کو نیند نہیں آ رہی تھی اور انٹرنیٹ پر اُس کا کسی سے گپ شپ کرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔ کیونکہ اُس کے جتنے رابطے والے لوگ تھے اُن میں سے کوئی بھی اُس سے رابطہ کرنے موجود نہیں تھا ۔ اور اس کو تو بہرحال وقت گُزارنا تھا ۔ شومئی قسمت کہ اس کا رُخ پاکستان میں میری طرف مُڑ گیا اور رات کے تین بجے ”سکائپی” پر ہماری گپ شپ کا آغاز ہوا ۔ میں سونا چاہتا تھا ، کیونکہ مجھے صبح سویرے کچھ ضروری کام بھی نمٹانے تھے مگر اِس ہندوستانی خاتون کا دِل بھی رکھنا چاہتا تھا ۔ پس میں نے انسانیت کو آرام پر ترجیح دی اور سونے کا اِرادہ ترک کر دیا ۔ اُس خاتون سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ ہوئی اور نیٹ میں آنے والے مسئلے نے یہ سلسلہ ختم کرایا ۔ یہ ہماری پہلی ادھی ملاقات تھی ۔ کسی زمانے میں چھٹی کو ادھی ملاقات تصور کیا جاتا تھا ، مگر زمانے کی جدیدیت کے ساتھ اس کا استعمال کاغذ کی بجائے برقیت پر ہونے لگا ۔

اِس سلسلے میں مجھے عرض کرنے دیں کہ نیٹ پر گپ شپ کے حوالے سے میں شروع ہی سے بہت خوش قسمت رہا ہوں ۔ اور خواتین کے معاملے میں تو بہت زیادہ ۔ اگر کسی خاتون سے تعارف ہو جاتا ہے اور میں اپنے مخصوص انداز میں اُس سے گپ شپ لگا لوں ، تو سمجھو کہ وہ گئی اپنے ہوش و حواس سے ۔ مگر کیا ہے ، کہ زندگی اتنی مصروف ہوتی ہے اور آپ کو ایک مشین کی طرح کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے اِن فضولیات کے لیے وقت کم ہی ہوتا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نیٹ پر میں بہت کم لوگوں کو وقت دے پاتا ہوں ۔ اور رہی آن لائن والی بات تو میرے تمام پیغام رساں چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں ۔ کُھلے تو نہیں معلوم کس کے انتظار میں ہوتے ہیں مگر دستک دینے والوں پر کوئی پابندی نہیں ۔ ہر کوئی دستک سے سکتا ہے ۔ کیونکہ مہمانوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں ۔ بقول شاعر ، ”دروازہ کُھلا رکھنا شائد کہ وہ آ جائے” ۔ کواڑ تو ہم نے نہ جانے کب سے کھلے رکھے ہیں مگر جس کے لیے کھلے رکھے وہ زحمت نہیں کرتے اور جس کا انتظار نہیں ہوتا وہ آ جاتے ہیں ۔

ہندوستانی خاتون بھی دستک دے کر ہی آئی تھی ، مگر لگتا تھا اس کا واپسی کا کوئی اِرادہ نہیں ہے ۔ اِرادے مضبوط ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔ اس کے ارادے بھی کافی مضبوظ تھے اور اس نے مجھے آخر کار پا ہی لیا ، یعنی کہ میرے آرام کے لمحات غیر محسوس طور پر اس کے نام ہوتے چلے گئے ۔ رات آرام کے لیے ہوتی ہے مگر میری راتیں اس سے گپ شپ میں گزرنے لگے ۔ اور صبح کو زندگی محنت طلب کام کے گرد گھومتی تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کروں تو کیا کروں ۔ خیر سلسلہ آگے بڑھتا رہا ، لکھنے لکھانے سے بات بولنے پر آگئی ۔ پھر گھنٹے لمحوں کی طرح اُڑ جاتے تھے طویل باتوں میں ۔ اُس کے پاس کیمرہ تھا ، وہ کیمرہ بھی چلانے لگی میرے پاس کیمرہ نہیں تھا ، مگر وہ اس معاملے میں بھی قناعت پسند ثابت ہوئی اور میری تصویروں کو بھی خزانہ سمجھنے لگی ۔ عمر تو اُس نے اپنی بتیس سال بتائی تھی مگر دیکھنے پر وہ بڑی عمر کی لگتی تھی ۔ خاصے خوشحال گھرانے سے تعلق ہے اور خود بھی ملازمت کرتی ہے ۔ تیس سال کی عمر میں طلاق ہو گئی تھی اور ابھی اپنی زندگی اپنی دس سالہ بیٹی کے لیے جی رہی ہے ۔ عیسائی مسلک سے تعلق ہے ، مگر مسلمانوں کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتی ہے ۔ شراب اور رقص کی بہت شوقین ہے ۔ رنگ اس کا گندمی ہے ، جس نے اس کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ مگر لہجے میں بَلا کی خود اعتمادی ہے ۔ جھوٹ کھبی نہیں بولتی اور نہ ہی بولنے والوں کو پسند کرتی ہے ۔ پہلی دفعہ مجھے ”آئی لَو یُو” کہنے کے لیے اَجازت طلب کی ، پھر اجازت کی زحمت گوارہ نہیں کرتی تھی ۔ انتہائی صاف اور سیدھی بات کرنے والی تھی مگر مجھے آخری لمحات تک اپنے اِرادوں سے بے خبر رکھا ۔ پتہ نہیں کیوں؟ ۔ دہلی میں رہتی ہے اور اجمیر شریف کے عُرس میں شرکت کے لیے مجھے کئی بار دعوت دے چُکی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھی کئی دعوتیں دے چکی ہیں مگر میں سختی سے ان دعوتوں کو مسترد کر چُکا ہوں ۔

ابھی کل کی ہی بات ہے ۔ حسبِ معمول ہمارے درمیان گپ شپ ہو رہی تھی ۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔ کہ میری ایک بات نے طُوفان کھڑا کر دیا ۔ بات صرف اتنی تھی کہ اُس نے نہ تو کھبی پوچھا تھا میری ذاتی زندگی کے بارے میں اور نہ ہی میں نے بتانے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔ کل وہ سرسری انداز میں پوچھ رہی تھی اور میں صاف صاف اُس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا ۔ مگر جیسے ہی میری شادی کے بارے میں اُس نے سُنا ، محترمہ غائب ہو گئی ۔ اور میرے نام اپنے آخری پیغامات یہ چھوڑ گئی ۔

tayeb (02:01:47 AM): Offline Ho Gaii Ho Kya?
angela (02:02:58 AM): nahi …i said…goodbye….to you….and by d way…CONGRATULATIONS too!
tayeb (02:03:15 AM): Itni Jaldi Kahaan Ja Rahee Ho?
tayeb (02:03:28 AM): Thank You Very Much Indeed For Wishing
angela (02:05:13 AM): ok…but i wont say welcome….coz i dont wish to talk to u anymore….goodbye…tc…God bless you

خُدا حافظ انجیلا برنارڈ ۔ آگر آپ اپنے اِرادوں کو پہلے ظاہر کرتیں تو میں یقیناً آپ کی غلط فہمیاں دُور کر دیتا ۔ مولا سلامت رکھے ۔

3 Comments

  1. munmun said,

    July 1, 2007 at 12:54 pm

    Gr88888888888888888888

  2. اجنبی said,

    July 1, 2007 at 6:01 pm

    Shukriya Janab…..!


Post a Comment