July 21, 2007 at 3:53 pm (بلاعنوان)

”محبت” کی تعریف مشکل ہے۔ اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ افسانے رقم ہوئے، شعراء نے ”محبت” کے قصیدے اور مرثیے لکھے۔ ”محبت” کی کیفییات کا ذکر ہوا۔ وضاحتیں ہوئیں۔ لیکن ”محبت” کی جامع تعریف نہ ہوسکی۔
”محبت” اِک بہت ہی پیارا اور اچھوتا سا لفظ ہے۔ یہ اِک ایسا لفظ ہے۔ جس نے انسان کو انسانیت سے متعارف کرایا۔ ”محبت” انسان کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ”محبت” انقلابی بنا دیتی ہے۔ ”محبت” ہمیں بلندیوں پر پرواز کرنے کے لیے پر عطا کرتی ہے۔ ”محبت” کسی فرض فریضے کو نہیں جانتی۔ فرض تو اِک بوجھ ہوتا ہے۔ اِک تکلیف ہوتی ہے۔ ”محبت” تو مسرت ہے، شراکت ہے۔ ”محبت” تو بلا تکلف ہوتی ہے۔
”محبت” کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عطا ہے، نصیب ہے، بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ زمین کے سفر میں آگر کوئی چیز آسمانی ہے۔ تو وہ ”محبت” ہے۔ سچ تو یہ ہے۔ کہ ”محبت” سے آشنا ہونے والا شخص ہر طرف حُسن ہی حُسن دیکھتا ہے۔ اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہء جاناں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں۔ وہ بے سبب ہنستا ہے اور روتا ہے بلا جواز۔
”محبت” قائم رہے تو فراق بھی وصال ہے۔ اور قائم نہ رہے تو وصال بھی فراق ہے۔ ”محبت” وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے۔ ”محبت” ہی تو ہے جو ہر قطرے کو قلزم سے آشنا کراتی ہے۔
یہ بات بھی کسی حد تک سچ ہے کہ ”محبت” کرنے والے کسی اور مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔ دراصل ”محبت” زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے۔ یہ قرآنِ فطرت کی الگ تفسیر ہے۔ ”محبت” ہو تو انسان کو اپنے وجود میں کائنات کی وسعتوں اور رنگینیوں سے آشنائی ہوتی ہے۔ ”محبت” کرنے والا اپنی ہستی کے نئے معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ باطنی سفر پر گامزن ہوتا ہے۔ زندگی کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں ”محبت” گویا اِک نخلستان سے کم نہیں۔ ”محبت” کے سامنے نا ممکن اور محال کچھ نہیں۔ ”محبت” پھیلے تو پورا کائنات اور سمٹے تو اِک قطرہ خُوں ہے۔
1 Comment
July 16, 2007 at 5:13 am (مصوّری, نظم)

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
تم ہوتیں تو کیسا ہوتا
تم یہ کہتیں
تم وہ کہتیں
تم اس بات پر حیران ہوتیں
تم اس بات پر کتنی ہنستیں
تم ہوتیں تو ایسا ہوتا
تم ہوتیں تو ویسا ہوتا
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
4 Comments
July 16, 2007 at 4:57 am (نثر)
ناردرن ایریا کے صدر مقام گلگت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہونے اور انتہائی شمال میں ہونے کے سبب یہاں ہرشے دیر
سے پہنچتی ہے۔
مثلاً جب پاکستان کے تمام اہم مقامات کا ناطہ پکی سڑک سے جڑ گیا اسکے بعد شمالی علاقے کو بذریعہ شاہراہ ریشم پاکستان سے جڑنا نصیب ہوا۔
جب پاکستان بھر میں نجی اور سرکاری شعبے میں سو سے زائد یونیورسٹیاں بن گئیں اسکے بعد اب سے تین برس قبل اٹھائیس ہزار مربع میل میں پھیلے ہوئے ڈیڑھ ملین لوگوں کے حصے میں پہلی یونیورسٹی آئی۔
آج جبکہ پاکستان میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی کئی بنچیں کام کررہی ہیں۔ناردرن ایریا میں ہائی کورٹ کے قیام کا صرف اصولی فیصلہ ہی ہو سکا ہے۔
پاکستان میں انیس سو تہتر سے نافذ آئین کے دائرے میں ناردرن ایریا کو لانے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے چھبیس برس بعد انیس سو ننانوے میں سنایا لیکن آج تک یہ فیصلہ عمل طلب ہے۔
مگر اب آئینی اور سیاسی حقوق کا مسئلہ فرقہ واریت نے حل کردیا ہے۔
گلگت کے پرانے باسی بتاتے ہیں کہ اب سے بیس برس پہلے تک شیعہ سنی شادیاں ایک عام سی بات تھی۔ بلکہ کئی خاندانوں میں تو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ شیعہ ہیں تو تین چار سنی اور ایک آدھ اسماعیلی۔
آج یہ صورتحال ہے کہ لوگ عقیدے کے فرق کی بنیاد پر نظریں بدل رہے ہیں۔ محلے اور اسکول بدل رہے ہیں۔اگر ایک اسپتال کسی ایک فرقے کے اکثریتی علاقے میں ہے تو دوسرے فرقے کا مریض جانے سے گھبرا رھا ہے۔کچھ مقامی یہ بھی کہتے ہیں کہ نوکریوں میں میرٹ سے زیادہ عقیدہ دیکھا جارھا ہے۔
ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے شہر گلگت میں قانون نافذ کرنے والے پانچ اداروں کی چوکیوں اور گشت پر کوئی ایک ملین روپے روزانہ کے خرچ کے باوجود پچھلے نو ماہ میں کوئی چونسٹھ لوگ بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کا لقمہ بن چکے ہیں۔ لیکن چار ماہ قبل کام شروع کرنے والی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت صرف ایک سزا سنا پائی ہے اور وہ بھی اسلحہ اسمگل کرنے کے الزام میں ایک ٹرک ڈرائیور کو۔
میں ابتدا میں عرض کرچکا ہوں کہ انتہائی دوردراز پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب گلگت میں ہرشے دیر سے پہنچتی ہے۔باقی علاقوں کی نسبت یہاں بدامنی بھی دیر سے پہنچی۔دیکھنا یہ ہے کہ امن کتنا وقت لے گا۔
Leave a Comment
July 16, 2007 at 4:48 am (غزل)
کوئی موسم ہو دل میں ہے تمھاری یاد کا موسم
کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمھارے بعد کا موسم
نہیں تو ازما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے
تمھارے مسکرانے سے دِلِ ناشاد کا موسم
صدا تیشے سے جو نکلے ، دلِ شیریں سے اُٹھی تھی
چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم
پرندوں کی زباں بدلی کہیں سے ڈھونڈ لے تو بھی
نئی طرزِ فغاں اِئے دل کہ ہے ایجاد کا موسم
رُتوں کا قاعدہ ہے وقت پہ یہ آتی جاتی ہیں
ہمارے شہر میں رُک گیا فریاد کا موسم
کہیں سے اُس حسیں آواز کی خوشبو پکارے گی
تو اُس کے بعد بدلے گا دلِ برباد کا موسم
قفس کے بام و در میں روشنی سی آتی جاتی ہے
چمن میں آ گیا شاید لبِ آزاد کا موسم
نہ کوئی کام خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم
Leave a Comment
July 12, 2007 at 1:09 pm (اِک شعر)

دِل کی خواہش تھی یا اُنگلیوں کا فن
اِک تیرا نام ہی ریت پر لِکھا بہت
2 Comments