کچھ باتیں سیاحت کی ۔۔امیر مخدومی

دورِحاضر میں بیسیوں ایسےممالک ہیں جن کا دارومدار محض سیاحت کےشعبے پر ہے۔اِن ممالک کی حکومت نےاپنےملکوں کو سجا سنوار کر ایسی دلہن کا روپ دے دیاہے جو باطن سےتو قبول صورت بھی نہیں ہوتی اور اُسےمیک اِپ کی تہوں میں چھپا کر حسین دوشیزہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیِ کی ریاستوں اور عربی ملکوں سےلےکر ، تھائی لینڈ ، ملائیشیا ، سنگاپور،چین،جیسےایشیائی ممالک ، افریقہ کےبیشتر ممالک، یورپی اور سکینڈے نیوین ممالک ، کئی جزائراور امریکہ کی متعدد ریاستوں تک، اکثر و بیشتر سیاحوں کےڈالروں پر پَل رہےہیں۔یہ تمام ایسےممالک ہیں جو اپنےتاریخی و ثقافتی ورثےکو سنبھال سنبھال رکھےہوئے ہیں۔اور اِن قدیمی و تاریخی مقامات کو آندھی و طوفان سے بچائےرکھتے ہیں ۔یہی اجاڑ اور ویران مقامات میک اَپ شدہ دلہن کےروپ میں اِن ممالک کی عوام کےلئےروٹی پانی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اِسی ضمن میں اَگر اپنےپیارےپاکستان پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائےتو ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے؟زمانہ قدیم کی نشانیوں میں موہنجوداڑو ، ہڑپہ ، ٹیکسلا جیسی تہذیبوں کا مسکن یہی پاکستان ہی۔کشمیر جنت نظیر اور لاتعداد قدرت کےحسین و جمیل مناظر سےلیس شمالی علاقہ جات،ناران،کاغان،سوات،سکردو،کیلاش اور دیگر سر سبز وادیوں اور جھیلوں سےمزین علاقے پاک سر زمین میں موجود ہیں۔برفیلےپہاڑوں کےخوبصورت اور سحر انگیز سلسلوں میں گھری ہوئی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہمارے ملک کے بدن پر سر اٹھائےکھڑی ہے۔اِس کےعلاوہ ملتان جیسےقدیم ترین شہر یہاں موجود ہیں۔کوئٹہ،لاہور ، حیدرآباد، شیخوپورہ،بہاولپور،ہر چند کےبیسیوں ایسےشہر ہیں جن میں سیاحوں کےلئےکوئی نہ کوئی کشش باقی ہی۔تو پھر ایسی کونسی وجہ ہےکہ اِن تمام تر نعمتوں کےباوجود ہماری حکومت آنکھ بھر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ بھی پاکستان کی جانب مبذول نہیں کرا پاتی۔ جہاں تک خیال جاتا ہے،اِس کی ایک بڑی وجہ تو سیاحوں کےساتھ وہ غیراخلاقی و غیرمیزبانہ سلوک ہےجو بذریعہ سڑک یا ائرپورٹ داخلےکےوقت سیاحوں کےساتھ کیا جاتا ہے۔اِس کے نتیجےمیں سیاحتی مقامات پر پہنچنےسے پہلےہی سیاح لوگ اتنےغیراتفاقی واقعات و حادثات سےگزر چکےہوتے ہیں کہ اُن کےمَن میں باقی پاکستان دیکھنےکی امنگ باقی نہیں رہتی۔ سالانہ بجٹ میں سیاحت کےمحکمےکےلئےکروڑوں اربوں روپےمخصوص کئےجاتےہیں۔مگر دیکھا جائےتو تمام سیاحتی مقامات برسوں سےلاپرواہی کا شکار ہیں۔حکمران اپنےلئے پہاڑوں پر نئےسےنئےشہر تعمیر کروا نےکی منصوبہ بندی کرتےہیں اور تمام فنڈز انہیں جگہوں کی تزئین و آرائش میں صرف کر دیتےہیں۔ جبکہ لاہور ، ملتان،حیدرآباد کےتمام تاریخی مقامات جوں کےتوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔بڑے فخر سےبیان کیا جاتا ہےکہ ملتان اولیاءکرام کا شہر ہے,لاہور تاریخی ورثہ ہے مگراولیاءکرام کےمزارات ، قلعہ ابنِ قاسم اور پاک گیٹ و حرم گیٹ کےتاریخی و قدیم محلات،لاہور کےاکثر تاریخی محلات و مقامات اپنی اہمیت برقرار رکھنےکےلئےکسی محسن کےمنتظر ہیں۔ پشاور و حیدر آباداور دیگر شہروں میں موجود تاریخی مساجد بالکل پسِ انداز کر دی گئی ہیں۔سات سو کلومیٹر لمبا ساحل ہمارے ملک کے پاس ہے مگر کراچی کےعلاوہ کسی ایک مقام پر بھی ساحل کی خوبصورتی وسیاحتی اعتبار سےایسی کوشش نہیں کی گئی جو قابلِ ستائش ہو۔دنیا نےصحرائوں،دریائوں اور برفانی پہاڑوں کو موج مستی کا مقام بنا ڈالا ہے،جبکہ ہمارے یہاں قراقرم جیسےخوبصورت پہاڑی سلسلےاوروسیع ترین صحرا ہونےکے باوجود اِن مقامات کو اِس قابل نہیں بنایا گیا کہ یہاں سیاح خوشی خوشی آئیں اور اپنےسفر کو یادگار بنائیں۔سیاحوں کےلئے آج تک ایسا نظام مرتب نہیں کیا گیا جس کےتحت مفید اور پرکشش پیکج تیار کئےجائیں تاکہ پوری دنیا سےلوگ پاکستان دیکھنےکی تمنا کریں جیسا کہ بیشتر یورپی و افریقی ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نےاپنی خوشامدانہ،غلامانہ اور کمزور سیاسی فطرت کےباعث پوری دنیا میں پاکستان کا ایسا کمزور امیج بنا ڈالا ہےکہ دنیا کا ہر شخص اِسےایک غیرامن ملک تصور کرتا ہے۔کوئٹہ،پشاور، کراچی کو لوگ تخریب کاروں ، اغوا کاروں ، ڈاکوئوں اور دہشت پسندوں کی آماجگاہ سمجھتےہیں۔جب کسی ملک کا ایسا منظر نامہ میڈیا پر پوری دنیا میں دکھا دیا جائےتو کیسےممکن ہےکہ کوئی سیاح ہزاروں ڈالر کی رقم خرچ کر کے پاکستان آنےکی جسارت کرے۔انڈیا تاج محل اور لال قلعی،گنگا و جمنا سےاتنا کما رہا ہےکہ ہمارےتمام تاریخی و ثقافتی و صحت افزاءمقامات بھی مل کر اُس کا میل نہیں کھاتی۔وہاں سیاحوں کو اچھا ماحول مہیا کیا جا تا ہی۔اُن کےلئےکشش اور آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ہمارےملک میں ہر جگہ کہیں نہ کہیں کوئی قابلِ ذکر مقام تنہا کھڑا اپنی بربادی و بےبسی پر آنسو بہا رہا ہی۔اِن مقامات پر سیاحتی اعتبار سےایسا کوئی خصوصی انتظام نہیں کیا گیا کہ سیاح اپنےآپ کو محفوظ جانیں اور اپنےسفر سےلطف اندوز ہو سکیں۔فی زمانہ پاکستان کی ایسی کوئی خاص ڈاکومنٹری فلم نہیںبنائی گئی جسےدیکھ کر غیر ممالک کےلوگ پاکستان آنےکےسپنےسجا ئیں۔ کم از کم جائز سطح پر ہم پاکستانیوں اور ہمارے حکمرانوں کو دنیا کےشانہ بشانہ چلنا چاہیے۔ماضی میں سیاحت کےشعبےسےمتعلق کئی منصوبےتشکیل دئےگئےمگر وہ فائلوں کےملبےمیں دب کر دھول کا حصہ بن گئے۔کسی منصوبے پر خاطرخواہ عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔اگر ایک مرتبہ ڈھنگ اور نیک نیتی سےسیاحت کےفروغ کےلئے پیسہ لگا دیا جائےتو کیسےممکن نہیں کہ ہم بھی دوسرےممالک کی طرح سیاحت سےزرِمبادلہ نہ کما سکیں۔مگر اِس سلسلےمیں ہمارےحکمرانوں کو وردی ، پارلیمنٹ اور جلاوطن سیاستدانوں کی رسہ کشی پر مغزماری کرنےکےساتھ ساتھ اِس محکمےکی جانب بھی غور کرنا ہو گا۔اگر حکومت دورشناسی کی نظر ، سچے کھرے دل اور ذہین دماغوں سےکام لےتو یہ بالکل ممکن ہےکہ ہمارا ملک بھی سیاحتی اعتبار سےدنیا کےنقشے پر ابھر سکی۔ یہ نتیجہ صرف نیک نیتی سےکام کرنے پر حاصل ہو گا۔اور اِس کےلئے بہترین طریقہ یہ ہےکہ میڈیا جیسےطاقتور ترین اور پر اثر ذریعےکو استعمال میں لاتےہوئےدنیا میں پاکستان کا ایک مثبت، خوبصورت اور پرکشش امیج قائم کیا جائی۔اور پھر عملی طور پرسیاحت کےلئےمناسب اور دیرپا اقدامات کئےجائیں۔تاکہ ہزاروں میل دور بیٹھا ایک سیاح بھی ہاتھ میں نقشےاور پمفلٹ تھامے، بیگ اٹھائے پاکستان آنےکےمنصوبےبنا رہا ہو۔