عید مبارک

تمام اہلِ وطن کو عید مبارک

بلاعنوان

”محبت”


”محبت” کی تعریف مشکل ہے۔ اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ افسانے رقم ہوئے، شعراء نے ”محبت” کے قصیدے اور مرثیے لکھے۔ ”محبت” کی کیفییات کا ذکر ہوا۔ وضاحتیں ہوئیں۔ لیکن ”محبت” کی جامع تعریف نہ ہوسکی۔

”محبت” اِک بہت ہی پیارا اور اچھوتا سا لفظ ہے۔ یہ اِک ایسا لفظ ہے۔ جس نے انسان کو انسانیت سے متعارف کرایا۔ ”محبت” انسان کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ”محبت” انقلابی بنا دیتی ہے۔ ”محبت” ہمیں بلندیوں پر پرواز کرنے کے لیے پر عطا کرتی ہے۔ ”محبت” کسی فرض فریضے کو نہیں جانتی۔ فرض تو اِک بوجھ ہوتا ہے۔ اِک تکلیف ہوتی ہے۔ ”محبت” تو مسرت ہے، شراکت ہے۔ ”محبت” تو بلا تکلف ہوتی ہے۔

”محبت” کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عطا ہے، نصیب ہے، بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ زمین کے سفر میں آگر کوئی چیز آسمانی ہے۔ تو وہ ”محبت” ہے۔ سچ تو یہ ہے۔ کہ ”محبت” سے آشنا ہونے والا شخص ہر طرف حُسن ہی حُسن دیکھتا ہے۔ اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہء جاناں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں۔ وہ بے سبب ہنستا ہے اور روتا ہے بلا جواز۔

”محبت” قائم رہے تو فراق بھی وصال ہے۔ اور قائم نہ رہے تو وصال بھی فراق ہے۔ ”محبت” وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے۔ ”محبت” ہی تو ہے جو ہر قطرے کو قلزم سے آشنا کراتی ہے۔
یہ بات بھی کسی حد تک سچ ہے کہ ”محبت” کرنے والے کسی اور مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔ دراصل ”محبت” زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے۔ یہ قرآنِ فطرت کی الگ تفسیر ہے۔ ”محبت” ہو تو انسان کو اپنے وجود میں کائنات کی وسعتوں اور رنگینیوں سے آشنائی ہوتی ہے۔ ”محبت” کرنے والا اپنی ہستی کے نئے معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ باطنی سفر پر گامزن ہوتا ہے۔ زندگی کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں ”محبت” گویا اِک نخلستان سے کم نہیں۔ ”محبت” کے سامنے نا ممکن اور محال کچھ نہیں۔ ”محبت” پھیلے تو پورا کائنات اور سمٹے تو اِک قطرہ خُوں ہے۔

خا لق و مخلو ق

 


مغربی مفکرین کہتے ہیں کہ ”موسیقی رُوح کی غذا ہے” ۔ بحثیتِ مسلمان ہم اِس بات سے اتفاق نہیں کرتے ۔ کیوں نہیں کرتے ؟ اِس کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ شریعتِ مُحمدی حُرمتِ موسیقی کی قائل ہے ۔ اگرچہ اس بات پر اختلافات موجود ہیں ۔ مگر مسلمان مفکرین کی زیادہ تعداد حُرمتِ موسیقی کی قائل ہے ۔ جدید زمانے میں مفکرین نے موسیقی کی بہت سی قسمیں بنائی ہیں ۔ بعض کے بارے میں رائے یہ ہے کہ یہ حلال ہیں اور بعض اقسام حرام قرار پائے ہیں ۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے ۔ مگر ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔ کہ زندگی میں ہر انسان کھبی نہ کھبی کچھ ایسے سُروں کی طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے ۔ جو اُس کی زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے میلان رکھتے ہیں ۔ ایسے لمحات میں انسان چاہتا ہے کہ یہ لَے بجتے رہیں اور وہ سُنتا رہے ۔ یعنی کہ ہم دِل و جان سے بلکہ مجھے جسارت کرنے دیں کہ ہم مکمل رُوح کے ساتھ متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ اور وہ سُر اور لَے اُس وقت رُوحانی غذا کا کام کرتے ہیں ۔ (معذرت کے ساتھ) ۔

خالق کو مخلوق بہت پیاری ہوتی ہے ۔ چاہے خالق ایک شاعر ہو ، ادیب ہو یا ایک  موسیقار ہو اور مخلوق چاہے ایک غزل ہو، کہانی ہو یا کُچھ نئے دُھن ہوں ۔ یہ ساری مخلوقات اپنے اپنے خالق کو پیاری ہوتی ہے ۔ ایک بچہ ماں کو کیوں پیارا ہوتا ہے ۔ اِس لیئے بھی کہ ماں خالق ہوتی ہے ۔
میرا دوست سعادت ، باجا ”پیانو” بہت اچھا بجاتا ہے ۔ کیوں اچھا بجاتا ہے ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ موسیقی سے اُس کو جنون کی حد تک شوق ہے ۔ یہ شوق اُس کو کیوں ہُوا ؟ اِس کا جواب تو میرے پاس نہیں ہے البتہ مجھے یقین ہے کہ کسی میراثی سے متاثر ہو کر یہ شوق پران نہیں چڑھا ہوگا ۔ اگرچہ موسیقی کا شائق ہے مگر الحمد للہ تا حال مسلمان ہے ۔ اگر لال مسجد والے اُس پر کفر کا فتوہ نہ لگائیں تو انشااللہ مرتے دم تک مسلمان رہے گا ۔ شروع شروع میں یہ عالم تھا کہ اگر کسی دُھن کو نقل بھی کر لیتا تو دیر تلک اپنے دِل میں خُوشی کی رمک محسوس کرتا ۔ بے اختیار جھوم اُٹھتا تھا ۔ آج وہ اِن مراحل سے بہت اگے جا چکا ہے ۔ مگر آج اور کل میں جو واضح فرق ہے وہ یہ ہے کہ کل اُس کے پاس بہت وقت تھا، اپنا شوق پورا کرنے کو اور آج شوق تو اُسی طرح جوان ہے مگر وقت بڑھاپے کی طرف مائل ہے ۔ وقت کی رفتار بڑھ گئی ہے ۔

 عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
 وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد

ایک دِن ہم ساتھ بیٹھے تھے ۔ وہ مختلف دُھنیں سُنا رہا تھا اور میں محظوظ ہو رہا تھا ۔ کہ اچانک میں کچھ گُنگنانے لگ گیا ۔ میں نے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی انگلیاں باجے پر ساکت ہو چکی تھیں ۔ اور وہ آنکھ جھپکائے بغیر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر میں کچھ گڑ بڑا گیا ۔ اور یوں تکنے کی وجہ پوچھی۔ مگر اس نے جواب دینے کی بجائے مجھ سے واضح سُروں میں ان الفاظ کو دوبارہ گنگنانے کی فرمائش کی ۔ میں نے وہ الفاظ دوبارہ گنگنانا شروع کئے اور اُس نے اِن الفاظ کو برقی لہروں کی صورت میں بکھیرنا شروع کیا ۔ بس پھر کیا تھا ، ایک سماں بندھ گیا ۔ عجیب بوجھل سی فضا بن گئی ۔ جس میں ہم پوری طرح ڈُوبے ہوئے تھے ۔ میرے پاس اپنا ڈیجیٹل کیمرہ پڑا ہوا تھا ۔ میں نے اِس ماحول کی تھوڑی سی عکس بندی کی ۔ بعد میں وہ صوتی ایجاد جس کسی نے بھی سُنی یا دیکھی ، ہمیں بے پناہ داد ملی ۔ خالق ہونے کا فیصلہ تا حال منتظرِ فردا ہے ۔ مگر مخلوق ہم دونوں کو بے پناہ پیاری ہے ۔ شائد ایک ہی دُھن کے ہم دونوں بیک وقت مؤجد ہیں یا بہ الفاظِ دیگر خالق ہیں ۔ یا یہ دُھن ہے ہی اتنی میٹھی کہ ہم دونوں مخلوق سے خالق بننے کا سفر طے کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔

ہند وستا نی خا تون ، یا ہُو اور شا د ی

 

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، رات کے تین بج رہے تھے ۔ رات کی خاموشی نے سب کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ میں اپنی دُنیا میں مگن تھا ۔ باہر رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی ۔ کہ اچانک میری دُنیا ، میری سوچوں میں خلل ڈالا گیا ۔ اور خلل ڈالنے والی ایک ہندوستانی خاتون تھی ۔ جس کو نیند نہیں آ رہی تھی اور انٹرنیٹ پر اُس کا کسی سے گپ شپ کرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔ کیونکہ اُس کے جتنے رابطے والے لوگ تھے اُن میں سے کوئی بھی اُس سے رابطہ کرنے موجود نہیں تھا ۔ اور اس کو تو بہرحال وقت گُزارنا تھا ۔ شومئی قسمت کہ اس کا رُخ پاکستان میں میری طرف مُڑ گیا اور رات کے تین بجے ”سکائپی” پر ہماری گپ شپ کا آغاز ہوا ۔ میں سونا چاہتا تھا ، کیونکہ مجھے صبح سویرے کچھ ضروری کام بھی نمٹانے تھے مگر اِس ہندوستانی خاتون کا دِل بھی رکھنا چاہتا تھا ۔ پس میں نے انسانیت کو آرام پر ترجیح دی اور سونے کا اِرادہ ترک کر دیا ۔ اُس خاتون سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ ہوئی اور نیٹ میں آنے والے مسئلے نے یہ سلسلہ ختم کرایا ۔ یہ ہماری پہلی ادھی ملاقات تھی ۔ کسی زمانے میں چھٹی کو ادھی ملاقات تصور کیا جاتا تھا ، مگر زمانے کی جدیدیت کے ساتھ اس کا استعمال کاغذ کی بجائے برقیت پر ہونے لگا ۔

اِس سلسلے میں مجھے عرض کرنے دیں کہ نیٹ پر گپ شپ کے حوالے سے میں شروع ہی سے بہت خوش قسمت رہا ہوں ۔ اور خواتین کے معاملے میں تو بہت زیادہ ۔ اگر کسی خاتون سے تعارف ہو جاتا ہے اور میں اپنے مخصوص انداز میں اُس سے گپ شپ لگا لوں ، تو سمجھو کہ وہ گئی اپنے ہوش و حواس سے ۔ مگر کیا ہے ، کہ زندگی اتنی مصروف ہوتی ہے اور آپ کو ایک مشین کی طرح کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے اِن فضولیات کے لیے وقت کم ہی ہوتا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نیٹ پر میں بہت کم لوگوں کو وقت دے پاتا ہوں ۔ اور رہی آن لائن والی بات تو میرے تمام پیغام رساں چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں ۔ کُھلے تو نہیں معلوم کس کے انتظار میں ہوتے ہیں مگر دستک دینے والوں پر کوئی پابندی نہیں ۔ ہر کوئی دستک سے سکتا ہے ۔ کیونکہ مہمانوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں ۔ بقول شاعر ، ”دروازہ کُھلا رکھنا شائد کہ وہ آ جائے” ۔ کواڑ تو ہم نے نہ جانے کب سے کھلے رکھے ہیں مگر جس کے لیے کھلے رکھے وہ زحمت نہیں کرتے اور جس کا انتظار نہیں ہوتا وہ آ جاتے ہیں ۔

ہندوستانی خاتون بھی دستک دے کر ہی آئی تھی ، مگر لگتا تھا اس کا واپسی کا کوئی اِرادہ نہیں ہے ۔ اِرادے مضبوط ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔ اس کے ارادے بھی کافی مضبوظ تھے اور اس نے مجھے آخر کار پا ہی لیا ، یعنی کہ میرے آرام کے لمحات غیر محسوس طور پر اس کے نام ہوتے چلے گئے ۔ رات آرام کے لیے ہوتی ہے مگر میری راتیں اس سے گپ شپ میں گزرنے لگے ۔ اور صبح کو زندگی محنت طلب کام کے گرد گھومتی تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کروں تو کیا کروں ۔ خیر سلسلہ آگے بڑھتا رہا ، لکھنے لکھانے سے بات بولنے پر آگئی ۔ پھر گھنٹے لمحوں کی طرح اُڑ جاتے تھے طویل باتوں میں ۔ اُس کے پاس کیمرہ تھا ، وہ کیمرہ بھی چلانے لگی میرے پاس کیمرہ نہیں تھا ، مگر وہ اس معاملے میں بھی قناعت پسند ثابت ہوئی اور میری تصویروں کو بھی خزانہ سمجھنے لگی ۔ عمر تو اُس نے اپنی بتیس سال بتائی تھی مگر دیکھنے پر وہ بڑی عمر کی لگتی تھی ۔ خاصے خوشحال گھرانے سے تعلق ہے اور خود بھی ملازمت کرتی ہے ۔ تیس سال کی عمر میں طلاق ہو گئی تھی اور ابھی اپنی زندگی اپنی دس سالہ بیٹی کے لیے جی رہی ہے ۔ عیسائی مسلک سے تعلق ہے ، مگر مسلمانوں کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتی ہے ۔ شراب اور رقص کی بہت شوقین ہے ۔ رنگ اس کا گندمی ہے ، جس نے اس کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ مگر لہجے میں بَلا کی خود اعتمادی ہے ۔ جھوٹ کھبی نہیں بولتی اور نہ ہی بولنے والوں کو پسند کرتی ہے ۔ پہلی دفعہ مجھے ”آئی لَو یُو” کہنے کے لیے اَجازت طلب کی ، پھر اجازت کی زحمت گوارہ نہیں کرتی تھی ۔ انتہائی صاف اور سیدھی بات کرنے والی تھی مگر مجھے آخری لمحات تک اپنے اِرادوں سے بے خبر رکھا ۔ پتہ نہیں کیوں؟ ۔ دہلی میں رہتی ہے اور اجمیر شریف کے عُرس میں شرکت کے لیے مجھے کئی بار دعوت دے چُکی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھی کئی دعوتیں دے چکی ہیں مگر میں سختی سے ان دعوتوں کو مسترد کر چُکا ہوں ۔

ابھی کل کی ہی بات ہے ۔ حسبِ معمول ہمارے درمیان گپ شپ ہو رہی تھی ۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔ کہ میری ایک بات نے طُوفان کھڑا کر دیا ۔ بات صرف اتنی تھی کہ اُس نے نہ تو کھبی پوچھا تھا میری ذاتی زندگی کے بارے میں اور نہ ہی میں نے بتانے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔ کل وہ سرسری انداز میں پوچھ رہی تھی اور میں صاف صاف اُس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا ۔ مگر جیسے ہی میری شادی کے بارے میں اُس نے سُنا ، محترمہ غائب ہو گئی ۔ اور میرے نام اپنے آخری پیغامات یہ چھوڑ گئی ۔

tayeb (02:01:47 AM): Offline Ho Gaii Ho Kya?
angela (02:02:58 AM): nahi …i said…goodbye….to you….and by d way…CONGRATULATIONS too!
tayeb (02:03:15 AM): Itni Jaldi Kahaan Ja Rahee Ho?
tayeb (02:03:28 AM): Thank You Very Much Indeed For Wishing
angela (02:05:13 AM): ok…but i wont say welcome….coz i dont wish to talk to u anymore….goodbye…tc…God bless you

خُدا حافظ انجیلا برنارڈ ۔ آگر آپ اپنے اِرادوں کو پہلے ظاہر کرتیں تو میں یقیناً آپ کی غلط فہمیاں دُور کر دیتا ۔ مولا سلامت رکھے ۔

« Older entries