کچھ باتیں سیاحت کی ۔۔امیر مخدومی

دورِحاضر میں بیسیوں ایسےممالک ہیں جن کا دارومدار محض سیاحت کےشعبے پر ہے۔اِن ممالک کی حکومت نےاپنےملکوں کو سجا سنوار کر ایسی دلہن کا روپ دے دیاہے جو باطن سےتو قبول صورت بھی نہیں ہوتی اور اُسےمیک اِپ کی تہوں میں چھپا کر حسین دوشیزہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیِ کی ریاستوں اور عربی ملکوں سےلےکر ، تھائی لینڈ ، ملائیشیا ، سنگاپور،چین،جیسےایشیائی ممالک ، افریقہ کےبیشتر ممالک، یورپی اور سکینڈے نیوین ممالک ، کئی جزائراور امریکہ کی متعدد ریاستوں تک، اکثر و بیشتر سیاحوں کےڈالروں پر پَل رہےہیں۔یہ تمام ایسےممالک ہیں جو اپنےتاریخی و ثقافتی ورثےکو سنبھال سنبھال رکھےہوئے ہیں۔اور اِن قدیمی و تاریخی مقامات کو آندھی و طوفان سے بچائےرکھتے ہیں ۔یہی اجاڑ اور ویران مقامات میک اَپ شدہ دلہن کےروپ میں اِن ممالک کی عوام کےلئےروٹی پانی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اِسی ضمن میں اَگر اپنےپیارےپاکستان پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائےتو ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے؟زمانہ قدیم کی نشانیوں میں موہنجوداڑو ، ہڑپہ ، ٹیکسلا جیسی تہذیبوں کا مسکن یہی پاکستان ہی۔کشمیر جنت نظیر اور لاتعداد قدرت کےحسین و جمیل مناظر سےلیس شمالی علاقہ جات،ناران،کاغان،سوات،سکردو،کیلاش اور دیگر سر سبز وادیوں اور جھیلوں سےمزین علاقے پاک سر زمین میں موجود ہیں۔برفیلےپہاڑوں کےخوبصورت اور سحر انگیز سلسلوں میں گھری ہوئی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہمارے ملک کے بدن پر سر اٹھائےکھڑی ہے۔اِس کےعلاوہ ملتان جیسےقدیم ترین شہر یہاں موجود ہیں۔کوئٹہ،لاہور ، حیدرآباد، شیخوپورہ،بہاولپور،ہر چند کےبیسیوں ایسےشہر ہیں جن میں سیاحوں کےلئےکوئی نہ کوئی کشش باقی ہی۔تو پھر ایسی کونسی وجہ ہےکہ اِن تمام تر نعمتوں کےباوجود ہماری حکومت آنکھ بھر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ بھی پاکستان کی جانب مبذول نہیں کرا پاتی۔ جہاں تک خیال جاتا ہے،اِس کی ایک بڑی وجہ تو سیاحوں کےساتھ وہ غیراخلاقی و غیرمیزبانہ سلوک ہےجو بذریعہ سڑک یا ائرپورٹ داخلےکےوقت سیاحوں کےساتھ کیا جاتا ہے۔اِس کے نتیجےمیں سیاحتی مقامات پر پہنچنےسے پہلےہی سیاح لوگ اتنےغیراتفاقی واقعات و حادثات سےگزر چکےہوتے ہیں کہ اُن کےمَن میں باقی پاکستان دیکھنےکی امنگ باقی نہیں رہتی۔ سالانہ بجٹ میں سیاحت کےمحکمےکےلئےکروڑوں اربوں روپےمخصوص کئےجاتےہیں۔مگر دیکھا جائےتو تمام سیاحتی مقامات برسوں سےلاپرواہی کا شکار ہیں۔حکمران اپنےلئے پہاڑوں پر نئےسےنئےشہر تعمیر کروا نےکی منصوبہ بندی کرتےہیں اور تمام فنڈز انہیں جگہوں کی تزئین و آرائش میں صرف کر دیتےہیں۔ جبکہ لاہور ، ملتان،حیدرآباد کےتمام تاریخی مقامات جوں کےتوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔بڑے فخر سےبیان کیا جاتا ہےکہ ملتان اولیاءکرام کا شہر ہے,لاہور تاریخی ورثہ ہے مگراولیاءکرام کےمزارات ، قلعہ ابنِ قاسم اور پاک گیٹ و حرم گیٹ کےتاریخی و قدیم محلات،لاہور کےاکثر تاریخی محلات و مقامات اپنی اہمیت برقرار رکھنےکےلئےکسی محسن کےمنتظر ہیں۔ پشاور و حیدر آباداور دیگر شہروں میں موجود تاریخی مساجد بالکل پسِ انداز کر دی گئی ہیں۔سات سو کلومیٹر لمبا ساحل ہمارے ملک کے پاس ہے مگر کراچی کےعلاوہ کسی ایک مقام پر بھی ساحل کی خوبصورتی وسیاحتی اعتبار سےایسی کوشش نہیں کی گئی جو قابلِ ستائش ہو۔دنیا نےصحرائوں،دریائوں اور برفانی پہاڑوں کو موج مستی کا مقام بنا ڈالا ہے،جبکہ ہمارے یہاں قراقرم جیسےخوبصورت پہاڑی سلسلےاوروسیع ترین صحرا ہونےکے باوجود اِن مقامات کو اِس قابل نہیں بنایا گیا کہ یہاں سیاح خوشی خوشی آئیں اور اپنےسفر کو یادگار بنائیں۔سیاحوں کےلئے آج تک ایسا نظام مرتب نہیں کیا گیا جس کےتحت مفید اور پرکشش پیکج تیار کئےجائیں تاکہ پوری دنیا سےلوگ پاکستان دیکھنےکی تمنا کریں جیسا کہ بیشتر یورپی و افریقی ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نےاپنی خوشامدانہ،غلامانہ اور کمزور سیاسی فطرت کےباعث پوری دنیا میں پاکستان کا ایسا کمزور امیج بنا ڈالا ہےکہ دنیا کا ہر شخص اِسےایک غیرامن ملک تصور کرتا ہے۔کوئٹہ،پشاور، کراچی کو لوگ تخریب کاروں ، اغوا کاروں ، ڈاکوئوں اور دہشت پسندوں کی آماجگاہ سمجھتےہیں۔جب کسی ملک کا ایسا منظر نامہ میڈیا پر پوری دنیا میں دکھا دیا جائےتو کیسےممکن ہےکہ کوئی سیاح ہزاروں ڈالر کی رقم خرچ کر کے پاکستان آنےکی جسارت کرے۔انڈیا تاج محل اور لال قلعی،گنگا و جمنا سےاتنا کما رہا ہےکہ ہمارےتمام تاریخی و ثقافتی و صحت افزاءمقامات بھی مل کر اُس کا میل نہیں کھاتی۔وہاں سیاحوں کو اچھا ماحول مہیا کیا جا تا ہی۔اُن کےلئےکشش اور آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ہمارےملک میں ہر جگہ کہیں نہ کہیں کوئی قابلِ ذکر مقام تنہا کھڑا اپنی بربادی و بےبسی پر آنسو بہا رہا ہی۔اِن مقامات پر سیاحتی اعتبار سےایسا کوئی خصوصی انتظام نہیں کیا گیا کہ سیاح اپنےآپ کو محفوظ جانیں اور اپنےسفر سےلطف اندوز ہو سکیں۔فی زمانہ پاکستان کی ایسی کوئی خاص ڈاکومنٹری فلم نہیںبنائی گئی جسےدیکھ کر غیر ممالک کےلوگ پاکستان آنےکےسپنےسجا ئیں۔ کم از کم جائز سطح پر ہم پاکستانیوں اور ہمارے حکمرانوں کو دنیا کےشانہ بشانہ چلنا چاہیے۔ماضی میں سیاحت کےشعبےسےمتعلق کئی منصوبےتشکیل دئےگئےمگر وہ فائلوں کےملبےمیں دب کر دھول کا حصہ بن گئے۔کسی منصوبے پر خاطرخواہ عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔اگر ایک مرتبہ ڈھنگ اور نیک نیتی سےسیاحت کےفروغ کےلئے پیسہ لگا دیا جائےتو کیسےممکن نہیں کہ ہم بھی دوسرےممالک کی طرح سیاحت سےزرِمبادلہ نہ کما سکیں۔مگر اِس سلسلےمیں ہمارےحکمرانوں کو وردی ، پارلیمنٹ اور جلاوطن سیاستدانوں کی رسہ کشی پر مغزماری کرنےکےساتھ ساتھ اِس محکمےکی جانب بھی غور کرنا ہو گا۔اگر حکومت دورشناسی کی نظر ، سچے کھرے دل اور ذہین دماغوں سےکام لےتو یہ بالکل ممکن ہےکہ ہمارا ملک بھی سیاحتی اعتبار سےدنیا کےنقشے پر ابھر سکی۔ یہ نتیجہ صرف نیک نیتی سےکام کرنے پر حاصل ہو گا۔اور اِس کےلئے بہترین طریقہ یہ ہےکہ میڈیا جیسےطاقتور ترین اور پر اثر ذریعےکو استعمال میں لاتےہوئےدنیا میں پاکستان کا ایک مثبت، خوبصورت اور پرکشش امیج قائم کیا جائی۔اور پھر عملی طور پرسیاحت کےلئےمناسب اور دیرپا اقدامات کئےجائیں۔تاکہ ہزاروں میل دور بیٹھا ایک سیاح بھی ہاتھ میں نقشےاور پمفلٹ تھامے، بیگ اٹھائے پاکستان آنےکےمنصوبےبنا رہا ہو۔ 

خا لق و مخلو ق

 


مغربی مفکرین کہتے ہیں کہ ”موسیقی رُوح کی غذا ہے” ۔ بحثیتِ مسلمان ہم اِس بات سے اتفاق نہیں کرتے ۔ کیوں نہیں کرتے ؟ اِس کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ شریعتِ مُحمدی حُرمتِ موسیقی کی قائل ہے ۔ اگرچہ اس بات پر اختلافات موجود ہیں ۔ مگر مسلمان مفکرین کی زیادہ تعداد حُرمتِ موسیقی کی قائل ہے ۔ جدید زمانے میں مفکرین نے موسیقی کی بہت سی قسمیں بنائی ہیں ۔ بعض کے بارے میں رائے یہ ہے کہ یہ حلال ہیں اور بعض اقسام حرام قرار پائے ہیں ۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے ۔ مگر ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔ کہ زندگی میں ہر انسان کھبی نہ کھبی کچھ ایسے سُروں کی طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے ۔ جو اُس کی زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے میلان رکھتے ہیں ۔ ایسے لمحات میں انسان چاہتا ہے کہ یہ لَے بجتے رہیں اور وہ سُنتا رہے ۔ یعنی کہ ہم دِل و جان سے بلکہ مجھے جسارت کرنے دیں کہ ہم مکمل رُوح کے ساتھ متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ اور وہ سُر اور لَے اُس وقت رُوحانی غذا کا کام کرتے ہیں ۔ (معذرت کے ساتھ) ۔

خالق کو مخلوق بہت پیاری ہوتی ہے ۔ چاہے خالق ایک شاعر ہو ، ادیب ہو یا ایک  موسیقار ہو اور مخلوق چاہے ایک غزل ہو، کہانی ہو یا کُچھ نئے دُھن ہوں ۔ یہ ساری مخلوقات اپنے اپنے خالق کو پیاری ہوتی ہے ۔ ایک بچہ ماں کو کیوں پیارا ہوتا ہے ۔ اِس لیئے بھی کہ ماں خالق ہوتی ہے ۔
میرا دوست سعادت ، باجا ”پیانو” بہت اچھا بجاتا ہے ۔ کیوں اچھا بجاتا ہے ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ موسیقی سے اُس کو جنون کی حد تک شوق ہے ۔ یہ شوق اُس کو کیوں ہُوا ؟ اِس کا جواب تو میرے پاس نہیں ہے البتہ مجھے یقین ہے کہ کسی میراثی سے متاثر ہو کر یہ شوق پران نہیں چڑھا ہوگا ۔ اگرچہ موسیقی کا شائق ہے مگر الحمد للہ تا حال مسلمان ہے ۔ اگر لال مسجد والے اُس پر کفر کا فتوہ نہ لگائیں تو انشااللہ مرتے دم تک مسلمان رہے گا ۔ شروع شروع میں یہ عالم تھا کہ اگر کسی دُھن کو نقل بھی کر لیتا تو دیر تلک اپنے دِل میں خُوشی کی رمک محسوس کرتا ۔ بے اختیار جھوم اُٹھتا تھا ۔ آج وہ اِن مراحل سے بہت اگے جا چکا ہے ۔ مگر آج اور کل میں جو واضح فرق ہے وہ یہ ہے کہ کل اُس کے پاس بہت وقت تھا، اپنا شوق پورا کرنے کو اور آج شوق تو اُسی طرح جوان ہے مگر وقت بڑھاپے کی طرف مائل ہے ۔ وقت کی رفتار بڑھ گئی ہے ۔

 عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
 وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد

ایک دِن ہم ساتھ بیٹھے تھے ۔ وہ مختلف دُھنیں سُنا رہا تھا اور میں محظوظ ہو رہا تھا ۔ کہ اچانک میں کچھ گُنگنانے لگ گیا ۔ میں نے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی انگلیاں باجے پر ساکت ہو چکی تھیں ۔ اور وہ آنکھ جھپکائے بغیر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر میں کچھ گڑ بڑا گیا ۔ اور یوں تکنے کی وجہ پوچھی۔ مگر اس نے جواب دینے کی بجائے مجھ سے واضح سُروں میں ان الفاظ کو دوبارہ گنگنانے کی فرمائش کی ۔ میں نے وہ الفاظ دوبارہ گنگنانا شروع کئے اور اُس نے اِن الفاظ کو برقی لہروں کی صورت میں بکھیرنا شروع کیا ۔ بس پھر کیا تھا ، ایک سماں بندھ گیا ۔ عجیب بوجھل سی فضا بن گئی ۔ جس میں ہم پوری طرح ڈُوبے ہوئے تھے ۔ میرے پاس اپنا ڈیجیٹل کیمرہ پڑا ہوا تھا ۔ میں نے اِس ماحول کی تھوڑی سی عکس بندی کی ۔ بعد میں وہ صوتی ایجاد جس کسی نے بھی سُنی یا دیکھی ، ہمیں بے پناہ داد ملی ۔ خالق ہونے کا فیصلہ تا حال منتظرِ فردا ہے ۔ مگر مخلوق ہم دونوں کو بے پناہ پیاری ہے ۔ شائد ایک ہی دُھن کے ہم دونوں بیک وقت مؤجد ہیں یا بہ الفاظِ دیگر خالق ہیں ۔ یا یہ دُھن ہے ہی اتنی میٹھی کہ ہم دونوں مخلوق سے خالق بننے کا سفر طے کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔

ہند وستا نی خا تون ، یا ہُو اور شا د ی

 

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، رات کے تین بج رہے تھے ۔ رات کی خاموشی نے سب کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ میں اپنی دُنیا میں مگن تھا ۔ باہر رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی ۔ کہ اچانک میری دُنیا ، میری سوچوں میں خلل ڈالا گیا ۔ اور خلل ڈالنے والی ایک ہندوستانی خاتون تھی ۔ جس کو نیند نہیں آ رہی تھی اور انٹرنیٹ پر اُس کا کسی سے گپ شپ کرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔ کیونکہ اُس کے جتنے رابطے والے لوگ تھے اُن میں سے کوئی بھی اُس سے رابطہ کرنے موجود نہیں تھا ۔ اور اس کو تو بہرحال وقت گُزارنا تھا ۔ شومئی قسمت کہ اس کا رُخ پاکستان میں میری طرف مُڑ گیا اور رات کے تین بجے ”سکائپی” پر ہماری گپ شپ کا آغاز ہوا ۔ میں سونا چاہتا تھا ، کیونکہ مجھے صبح سویرے کچھ ضروری کام بھی نمٹانے تھے مگر اِس ہندوستانی خاتون کا دِل بھی رکھنا چاہتا تھا ۔ پس میں نے انسانیت کو آرام پر ترجیح دی اور سونے کا اِرادہ ترک کر دیا ۔ اُس خاتون سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ ہوئی اور نیٹ میں آنے والے مسئلے نے یہ سلسلہ ختم کرایا ۔ یہ ہماری پہلی ادھی ملاقات تھی ۔ کسی زمانے میں چھٹی کو ادھی ملاقات تصور کیا جاتا تھا ، مگر زمانے کی جدیدیت کے ساتھ اس کا استعمال کاغذ کی بجائے برقیت پر ہونے لگا ۔

اِس سلسلے میں مجھے عرض کرنے دیں کہ نیٹ پر گپ شپ کے حوالے سے میں شروع ہی سے بہت خوش قسمت رہا ہوں ۔ اور خواتین کے معاملے میں تو بہت زیادہ ۔ اگر کسی خاتون سے تعارف ہو جاتا ہے اور میں اپنے مخصوص انداز میں اُس سے گپ شپ لگا لوں ، تو سمجھو کہ وہ گئی اپنے ہوش و حواس سے ۔ مگر کیا ہے ، کہ زندگی اتنی مصروف ہوتی ہے اور آپ کو ایک مشین کی طرح کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے اِن فضولیات کے لیے وقت کم ہی ہوتا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نیٹ پر میں بہت کم لوگوں کو وقت دے پاتا ہوں ۔ اور رہی آن لائن والی بات تو میرے تمام پیغام رساں چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں ۔ کُھلے تو نہیں معلوم کس کے انتظار میں ہوتے ہیں مگر دستک دینے والوں پر کوئی پابندی نہیں ۔ ہر کوئی دستک سے سکتا ہے ۔ کیونکہ مہمانوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں ۔ بقول شاعر ، ”دروازہ کُھلا رکھنا شائد کہ وہ آ جائے” ۔ کواڑ تو ہم نے نہ جانے کب سے کھلے رکھے ہیں مگر جس کے لیے کھلے رکھے وہ زحمت نہیں کرتے اور جس کا انتظار نہیں ہوتا وہ آ جاتے ہیں ۔

ہندوستانی خاتون بھی دستک دے کر ہی آئی تھی ، مگر لگتا تھا اس کا واپسی کا کوئی اِرادہ نہیں ہے ۔ اِرادے مضبوط ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔ اس کے ارادے بھی کافی مضبوظ تھے اور اس نے مجھے آخر کار پا ہی لیا ، یعنی کہ میرے آرام کے لمحات غیر محسوس طور پر اس کے نام ہوتے چلے گئے ۔ رات آرام کے لیے ہوتی ہے مگر میری راتیں اس سے گپ شپ میں گزرنے لگے ۔ اور صبح کو زندگی محنت طلب کام کے گرد گھومتی تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کروں تو کیا کروں ۔ خیر سلسلہ آگے بڑھتا رہا ، لکھنے لکھانے سے بات بولنے پر آگئی ۔ پھر گھنٹے لمحوں کی طرح اُڑ جاتے تھے طویل باتوں میں ۔ اُس کے پاس کیمرہ تھا ، وہ کیمرہ بھی چلانے لگی میرے پاس کیمرہ نہیں تھا ، مگر وہ اس معاملے میں بھی قناعت پسند ثابت ہوئی اور میری تصویروں کو بھی خزانہ سمجھنے لگی ۔ عمر تو اُس نے اپنی بتیس سال بتائی تھی مگر دیکھنے پر وہ بڑی عمر کی لگتی تھی ۔ خاصے خوشحال گھرانے سے تعلق ہے اور خود بھی ملازمت کرتی ہے ۔ تیس سال کی عمر میں طلاق ہو گئی تھی اور ابھی اپنی زندگی اپنی دس سالہ بیٹی کے لیے جی رہی ہے ۔ عیسائی مسلک سے تعلق ہے ، مگر مسلمانوں کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتی ہے ۔ شراب اور رقص کی بہت شوقین ہے ۔ رنگ اس کا گندمی ہے ، جس نے اس کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ مگر لہجے میں بَلا کی خود اعتمادی ہے ۔ جھوٹ کھبی نہیں بولتی اور نہ ہی بولنے والوں کو پسند کرتی ہے ۔ پہلی دفعہ مجھے ”آئی لَو یُو” کہنے کے لیے اَجازت طلب کی ، پھر اجازت کی زحمت گوارہ نہیں کرتی تھی ۔ انتہائی صاف اور سیدھی بات کرنے والی تھی مگر مجھے آخری لمحات تک اپنے اِرادوں سے بے خبر رکھا ۔ پتہ نہیں کیوں؟ ۔ دہلی میں رہتی ہے اور اجمیر شریف کے عُرس میں شرکت کے لیے مجھے کئی بار دعوت دے چُکی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھی کئی دعوتیں دے چکی ہیں مگر میں سختی سے ان دعوتوں کو مسترد کر چُکا ہوں ۔

ابھی کل کی ہی بات ہے ۔ حسبِ معمول ہمارے درمیان گپ شپ ہو رہی تھی ۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔ کہ میری ایک بات نے طُوفان کھڑا کر دیا ۔ بات صرف اتنی تھی کہ اُس نے نہ تو کھبی پوچھا تھا میری ذاتی زندگی کے بارے میں اور نہ ہی میں نے بتانے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔ کل وہ سرسری انداز میں پوچھ رہی تھی اور میں صاف صاف اُس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا ۔ مگر جیسے ہی میری شادی کے بارے میں اُس نے سُنا ، محترمہ غائب ہو گئی ۔ اور میرے نام اپنے آخری پیغامات یہ چھوڑ گئی ۔

tayeb (02:01:47 AM): Offline Ho Gaii Ho Kya?
angela (02:02:58 AM): nahi …i said…goodbye….to you….and by d way…CONGRATULATIONS too!
tayeb (02:03:15 AM): Itni Jaldi Kahaan Ja Rahee Ho?
tayeb (02:03:28 AM): Thank You Very Much Indeed For Wishing
angela (02:05:13 AM): ok…but i wont say welcome….coz i dont wish to talk to u anymore….goodbye…tc…God bless you

خُدا حافظ انجیلا برنارڈ ۔ آگر آپ اپنے اِرادوں کو پہلے ظاہر کرتیں تو میں یقیناً آپ کی غلط فہمیاں دُور کر دیتا ۔ مولا سلامت رکھے ۔

ہم اور وہ

”ہم” ہم ہیں اور ”وہ” وہ ۔ ہمارے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ مشرق اور مغرب میں ہونا چاہیے ۔ ہم معززینِ مغرب ہو کر بھی ”وہ” نہیں بنتے وہ خوارِ مشرق ہو کر بھی ”ہم” بن جاتے ہیں ۔ ہمارے بیچ صرف فرق نہیں تفریق ہے ۔ جو کام ہم کرتے ہیں وہ کرنا نہیں چاہتے اور جو کام وہ کرتے ہیں ہم کر نہیں سکتے ۔ ہماری سوچیں بلند ہیں اور کام پست اُن کی سوچیں پست ہیں اور کام بلند ۔ ہم سب مسلمان ہیں اور وہ سب صرف سلمان (سلمان رُشدی) ۔ ہم آپسمیں لڑ کر تماشہ دکھاتے ہیں اور وہ ہمیں لڑا کر تماشہ دیکھتے ہیں ۔ ہم ترقی پذیر ہیں اور وہ ترقی یافتہ ۔ ہم عورتوں کی چادریں چھین کر فخر کرتے ہیں اپنی ترقی پر اور وہ ہم سے چادریں چنوا کر فخر کرتے ہیں اپنی عقل پر ۔ ہم دل کی بات مانتے ہیں وہ دماغ کی ۔ ہمارے ہاں دِل تھوک کے حساب سے ملتے ہیں اور ان کے ہاں دماغ ۔ ہم سارے عاشق ہیں وہ سائنسدان ۔ ہم اس لیے ترقی یافتہ نہیں ہیں کہ ہم سہل پسند ہیں وہ اس لیے ترقی یافتہ ہیں کہ وہ سہل پسند نہیں ہیں ۔ ہم گفتار کے غازی ہیں وہ عمل کے ۔ چاند پر ہم اس لیے ابھی تک نہیں پہنچ سکے کہ ہم تنقید کرتے ہیں اصلاح نہیں کرتے ، وہ تنقید نہیں کرتے چاند پر پہنچتے ہیں ۔ سُنا ہے تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے اور اصلاح مشکل ترین ۔ ہم اس لیے تنقید کے ماہر ہیں کہ یہ آسان کام ہے وہ اس لیے تنقید کے ماہر نہیں ہیں کہ یہ آسان کام ہے ۔

کھبی ہم حکمران ہوا کرتے تھے ، آج وہ حکمران ہیں ۔ ہمارے ہاں نا پسندیدہ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی ہے ، وہ ہماری تاریخ ہم پر دہراتے ہیں ۔ ہم ملازمت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں ملازمت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ ملازمت اس لیے کرتے ہیں کہ ملازمت کو اُن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہم چوری کرتے ہیں اور پھر سینہ زوری بھی ، وہ ہماری چوری پکڑ کر سینہ زوری کرتے ہیں ۔ ہم جھوٹ بے حساب بولتے ہیں ، وہ حساب سے بولتے ہیں ۔ ہم کام کرکے سوچتے ہیں ، وہ سوچ کر کام کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ہمارے ملک میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ہم با صلاحیت ہیں اور وہ صلاحیت خریدنے والے ، اس لیے ہمارے ملک میں صلاحیت کی کمی ہی کمی ہے ۔ ہم دہشت گرد ہیں اور وہ امن و آتشی کے پیروکار ۔ ہم صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ، وہ صرف اللہ پر بھروسہ اس لیے نہیں رکھتے کہ وہ محنت کرنا جانتے ہیں ۔ اسلام ہمارا دین ہے ، واقفیت وہ رکھتے ہیں ۔ غور و خوض اور تحقیق کرنے کا حکم ہمیں ملا ہے ، مگر عمل پیرا وہ ہیں ۔ ایڈز ان کا پھیلایا ہوا ہے مگر مبتلا ہم ہیں ۔ ہم مانگنے والے ہیں ، وہ دینے والے ۔ المختصر، ”وہ” وہ ہیں اور ”ہم” ہم ۔

( خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہیں بدلتا ۔ القرآن )

طیب

سلطان کا پیغام سلطانوں کے نام

 

سوچا تو نہیں تھا مگر شاید قسمت کو ملاقات منظور تھی سلطان صاحب سے۔ شاید اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ ملاقات بھی قسمت سے ہوتی ہے ۔ میری قسمت اچھی تھی یا سلطان صاحب کی قسمت بُری تھی کہ ہم آپسمیں ٹکرا ہی گئے۔ کچھ دیر کھڑے ہو کر باتیں کی ، پھر ایک لمبی نشست شروع ہوگئی۔ آغاز سیاست سے ہوا ، کچھ سیاست دانوں کو جی بھر کے کوسا ، کچھ کو سراہا ۔ پاکستان کے مستقبل ، آنے والے خطرات ، آج کل کے حالات اور اُس کے اثرات زیرِ بحث آئے ۔ غرض اپنی اپنی فہم کے مطابق اظہارِ رائے کیا ۔ ہماری قوم کے نتائج ویسے بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی اس قوم سے ہمیں اچھے نتائج کی اُمید ہے ۔ اِس لیے ہماری اِس سیاسی بحث کا نہ کوئی نتیجہ نکلنا تھا اور نہ ہی نکلا ۔ ظاہر ہے کوئی نتیجہ نکلتا بھی کیسے ؟ جبکہ ہم خود نہیں چاہتے کہ ہمارے افعال کے مثبت نتائج نکلیں ۔

سلطان صاحب کو لوگ کئی ناموں سے جانتے ہیں ۔ کوئی اُن کو چوہدری سلطان صاحب کہتے ہیں تو کوئی سلطان علی کہتا ہے ۔ کچھ لوگ اُس کو ” کیو سی ( QC)” سلطان صاحب کہتے ہیں ۔ مگر میرے لیے وہ ایک اچھا سوچ رکھنے والے انسان ہیں جس کا نام سلطان ہے ۔ اب اُس کے نام کے لاحقے یا سابقے ”علی” یا ”کیو سی” یا ”چوہدری” ہیں یا نہیں ہیں ، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ مجھے غرض اس بات سے ہے کہ وہ ایک عملی انسان ہے ۔ جس نے زندگی گزارنے کے چند مفید اصول مقرر کیے ہیں ۔ اور ہمیشہ میں نے اُس کو ان اصولوں پر کاربند دیکھا ہے ۔ سلطان صاحب نے عُمر کا بیشتر حصہ تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں گزارا ہے ۔ ہمیشہ سے اچھے عہدوں پر رہے ہیں ۔ مذ کورہ کمپنیوں میں کام کرنے کا بڑا نقصان یہ ہے کہ عُمر پہاڑوں اور صحراؤں میں کٹ جاتی ہے اور سماجی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں ۔ اِس لیے ایسے لوگ اکثر اپنی ذات تک محدود ہوتے ہیں ۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ اپنے میدانِ مہارت کے علاوہ کسی اور موضوع میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے ۔ مگر سلطان صاحب نہ صرف یہ کہ سماجی شخصیت ہیں بلکہ ہر موضوع پر ماہرانہ حد تک بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

بات ہو رہی تھی ہماری ملاقات کی ۔ سیاست کے بعد ہماری گفتگو کا رُخ حالیہ واقعات کی طرف مڑ گیا ۔ جو کراچی میں رونما ہوئے ہیں ۔ اِس سلسلے میں اس نے ایک بہت عمدہ بات کہی کہ ایک چیز دنیا میں ایسی بھی ہے ۔ جو عالمی سیاست اور عالمی مذاہب سے بھی بڑھ کر ہے ۔ اور وہ ہے انسانیت ۔ انسانیت پہلے ہے ، سیاست اور مذاہب بعد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ اگر ہم اس پہلو سے سوچیں تو ہم کھبی بھی ایک دوسرے کا خون نہیں بہائیں گے ۔ خون بہانا تو درکنار ہم ایک دوسرے کو میلی نظر سے دیکھنا بھی ضمیر پر بوجھ محسوس کریں گے ۔ بس غور کرنے کا یہی وہ مقام ہے ۔ کہ ایک عام آدمی تو ایسی خاص باتیں محسوس کر سکتا ہے مگر وہ خاص لوگ یہ عام سی باتیں محسوس نہیں کرتے یا نہیں کرنا چاہتے ۔ شائد اِس لیے بھی کہ ، انسانیت سے بڑھ کر بھی ایک چیز دنیا میں موجود ہے اور وہ ہے اقتدار کی کرسی ۔ جس کی جنگ میں ازل سے بے گناہ انسان مارے جا رہے ہیں اور شاید ابد تک یہ سلسلہ جاری رہے ۔  

طیّب

« Older entries