بيا ن پا لتو جا نورں کا

بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جس ميں ایک نہ ایک پالتو جانور نہ ہو. گائے نہیں تو بھینس، بھیڑ نہیں تو بکری. کتا نہیں تو بّلی، گھوڑا نہیں تو گدھا. جانور پالنا بڑی اچھی بات ہے. یہ صرف انسان کا خاصہ ہے. آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ کسی طوطے نے خرگوش پالا ہو، کسی مرغی نے کوئی بّلی پالی ہو، یا کسی گدھے نیں کوئی گھوڑا پالا ہو. گدھا بظاہر کیسا بھی نظر آئے ایسا گدھا بھی نہیں ہوتا.

پہلی قسم: دُدھ دینے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری وغیرہ
دوسری قسم: دُودھ پینے والے جانور مثلاً بّلی، کبھی سامنے کبھی چُوری چُھپے.
تیسری قسم: جو نہ دودھ دیتے ہیں نہ دودھ پیتے ہیں، مثلاً مرغی، کبوتر، طوطا وغیرہ
چوتھی قسم ہم بھول گئے ہیں، اس لئے اسے نظر انداز کرتے ہیں، اور تھوڑا تھوڑا حال ان جانوروں کا لکھتے ہیں

بھینس

بہت مشہور جانور ہے، قدمیں عقل سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے. چوپایوں مین یہ واحد جانور ہے کہ موسیقی سے ذوق رکھتا ہے. اسی لئے لوگ اِس کے آگے بین بجاتے ہیں. کسی اور جانور کے آگے نہیں بجاتے.

بھینس کبھی دودھ دیتی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہوتا. باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے. تعاون اچھی چیز ہے لیکن پہلے دودھ کو چھان لینا چاہیئے تاکہ مینڈک نکل جائیں.

بھینس کا گھی بھی ہوتا ہے، بازار میں ہر جگہ ملتا ہے. آلوؤں، چربی اور وٹامن سے بھرپور. نشانی اس کی یہ ہوتی ہے کہ پیپے پر بھینس کی تصویر بنی ہوتی ہے اس سے زیادہ تفصیل ميں نہ جانا چاہیئے.

آج کل بھینس انڈے نہیں دیتی. مرزا غالب کے زمانے کی بھینس دیتی تھی. حکیم لوگ پہلے روغنِ گُل بھینس کے انڈے سے نکالا کرتے تھے. پھر دَوا جتنی ہے کُل بھی نکال لیا کرتے تھے. بہت سے امراض کے لئے مفید ثابت ہوتی تھی.

 

گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

یہ شعر مولوی اسماعیل میرٹھی کا ہے۔ شیخ سعدی وغیرہ کا نہیں ۔ یہ بھی خوب جانور ہے دودھ کم دیتی ہے۔ عزت زیادہ کراتی ہے، پرانے خیال کے ہندو اسے ماتا جی کہ کر پکارتے ہیں، ویسے بچھڑوں سے بھی اس کا یہی رشتہ ہوتا ہے۔

صحیح الخیال ہندوگائے کا دودھ پیتے ہیں، اس کے گوبرسےچُوکا لیپتے ہیں لیکن اس کو کاٹنا اور کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ ان کے عقیدے میں جو گائے کو کاٹتا ہے، اورکھاتا ہے سیدھا نرک میں جاتا ہے، راستے میں کہیں دم نہیں لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گائے دودھ دینا بند کر دے تو ہندو اسے قصاب کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ قصاب مسلمان ہوتا ہے، اُسے ذبح کر تا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے، تو سارے نرک میں جاتے ہیں۔ بیچنے والے کو روحانی تسکین ہوتی ہے، پیسے الگ ملتے ہیں۔

جن گائیوں کو قصاب قبول نہ کریں انھیں گئو شالاؤں میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ بھوکی رہ کر تپسیا کرتی ہیں، اور کّووں کے ٹھونگے کھاتی پرلوک سدھارتی ہیں۔ غیر ملکی سیاح ان کے فوٹو کھینچتے ہیں، کتابوں میں چھاپتے ہیں۔ کھالیں برامد کی جاتی ہیں۔ زرِمبادلہ کمایا جاتا ہے۔

شاستروں میں لکھا ہے کہ دُنیا گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ گائے خود کس چیز پر کھڑی ہے۔ اس کا گوبر کہاں گرتا ہے، اور پیشاب کہاں جاتاہے۔ یہ تفصیلات بخوفِ طوالت شاستروں میں نہیں لکھیں۔

بھیڑ

بھیڑ کی کھال مشہور ہے، بھیڑ کی چال مشہور ہے اور بھیڑ کا مآل بھی مشہور ہے۔ بہت کم بھیڑیں عمرِ طبعی کو پہنچتی ہیں۔

جو رشتہ شیر بکری سے ہم نے بیان کیا ہے، وہی رشتہ بھیڑ کا بھیڑیے سے ہے۔ بھیڑیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ سفید بھیڑیں، کالی بھیڑیں وغیرہ، لیکن بھیڑیا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور یکساں چاہت سے لقمہ بناتا ہے۔

اِس جانور میں قربانی کا مادہ بہت ہوتا ہے اور انسان اس مادے سے بہت فائدہ اُٹھاتا ہے۔ گوشت کھا جاتا ہے، کھال بیچ دیتا ہے۔

 

بکری

گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔

جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی

بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔ یہ جو شاعری میں اوزان اور بحروں کی بدعت ہے۔ یہ اخفش صاحب سے ہی منسوب کی جاتی ہے۔ بیٹھے فاعلاتن فاعلات کیا کرتے تھے، جہاں شک ہو تصدیق کے لئے بکرے سے پوچھتے تھے کہ کیوں حضرت ٹھیک ہے نہ؟ وہ بکرا اللہ اُسے جنت میں یعنی جنت والوں کے پیٹ میں جگہ دے، سر ہلا کر ان کی بات پر صاد کر دیتا تھا۔ اس بکرے کی جسل بہت پھیلی، پاکستان میں بھی پائی جاتے ہے۔ سوتے جاگتے اس کے منہ سے یس سر، یس سر، جی حضور، بجافرمایا وغیرہ نکلتا رہتا ہے۔ اسے بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جن ملکوں میں بہت انصاف ہو ان میں شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی پینے لگتی ہیں، جس طرح علامہ اقبال کے ایک شعر میں محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ شیر پانی پینے کے بعد وہیں بکری کو دبوچ لیتا ہے، اُسے ناشتے کے لئے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔

گدھا

گدھا بڑا مشہور جانور ہے۔ گدھے دو طرح کے ہوتے ہیں،چار پاؤں والے اور دو پاؤں والے۔ سینگ ان میں کسی کے سر پر نہیں ہوتے۔ آج کل چار پاؤں والے گدھوں کی نسل گھٹ رہی ہے دو پاؤں والوں کی بڑھ رہی ہے۔

گھوڑے کی شکل ایک حد تک گدھے سے ملتی ہے، بعض لوگ گدھے گھوڑے کو برابر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دونوں کہ ایک تھان پر باندھتے ہیں، یا ایک لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر گدھا اس پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں، سنو ذرا اس گدھے کی باتیں۔ سوچنے کی بات ہے اگر گھوڑا کسی لائق ہوتا تو حضرت عیسی اس پر سواری نہ کرتے، گدھے کو کیوں پسند کرتے؟ شاعروں نے بھی گدھے کی ایک خوبی کی تعریف کی ہے۔ خرِ عیسٰی ہو یا کوئی اور گدھا اگر وہ مکہ بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہتا ہے۔ دوسرے جانور بشمول آدمی تو اپنی اصل بھول جاتے ہیں، واپس آکر القاب کے دُم چھلے لگاتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے ایک زمانے میں گدھوں کی مشابہت گھوڑوں کی بجائے آدمیوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ غالب اپنے محبوب کے دروازے پر کسی کام سے گئے اُس کا پاسبان یعنی دربان ان کو حضرت عیسی کی سواری کا جانور سمجھ کر بوجہ احترام چُپ رہا، لیکن جب اُنھوں نے کنوتیاں جھاڑ کر اس کے قدم لینے کی کوشش کی تو سمجھ گیا کہ یہ تو نجم الدولہ دبیرالُملک مرزا اسد اللہ خاں بہادر ہیں۔ چناچہ کماحقہ بد سلوکی کی۔

اُونٹ
اُونٹ ایک جانور ہے، اکبر الہ آبادی نے اسے مسلمان سے تشبیہ دی ہے کیونکہ مسلمان کی طرح اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور مسلمان کی طرح یہ بھی صحرا کا جانور ہے۔ بہت دن تک بے کھائے پیئے زندہ رہتا ہے۔ جس طرح ہر مسلمان کی پیٹھ پر عظمتِ رفتہ کا کوہان ہوتا ہے اس کی پیٹھ پر بھی ہوتا ہے۔

اُونٹ کو ڈاچی بھی کہتے ہیں، ڈاچی والیا موڈ مہار وے۔ ریلوے والون نے آج کل اس کو پہیے لگا دیے ہیں اور ایکسپریس بنا دیا ہے۔عربی میں اسے ناقہ کہتے ہیں۔ حضرتِ قیس کی محبوبہ لیلیٰ ہی نہیں اس زمانے کی سبھی عورتیں ناقے پر سوار ہوا کرتی تھیں۔

بعد میں ہند کے شاعروں صورت گروں اور افسانہ نویسوں کے اعصاب پر سوار ہونے لگیں کیونکہ اس میں ہچکولے کم لگتے ہیں۔ آرام زیادہ رہتا ہے۔

 

کتا

کتا پالتوجانور ہے۔ ہمارے شہر کی کارپوریشن اسے پالتی ہے اور مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ کارپوریشن اور بھی کئی جانور پالتی ہے مثلاً مچھر، مثلاً چوہے۔ لیکن بھونکنے والا جانور یہی ہے۔ کتابوں میں آیا ہے کہ جو کتے بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں۔ کاٹنے والے کو بھونکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بھونکتا وہ ہے جسے کاٹا جائے جس کو گزند پہنچے۔

کتا بڑا وفادار جانور ہے، کارپوریشن بھی اس کی بہت وفادار ہے۔جن دنوں میں کتّےشہریوں کو کاٹتے ہیں، کارپوریشن بھی ان کی ہمدردی میں کاٹنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ ٹیکس لاؤ ، وہ ٹیکس لاؤ۔ ناطقے کے علاوہ بھی کبھی کبھی پانی بند کر دیتی ہے جس سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ کارپوریشن کا شجرہ حضرت امام حسین کے کسی صاحبِ اقدار ہمعصر سے جا ملتا ہے۔

کارپوریشن کے علاوہ نجی شعبے میں بھی کتے ہوتے ہیں۔ ریّسوں کے کتے غریبوں پر بھونکتے ہیں۔ غریبوں کے کتے اپنے آپ پر بھونکتے ہیں۔

کتا اپنی گلی میں شیر ہوتا ہے، جس طرح شیر کسی دوسرے کے گلی میں کتا بن جاتا ہے۔

کتوں اور عاشقوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں راتوں کو گھومتے ہیں، اور اپنا اپنا کلام پڑھ پڑھ کر لوگوں کو جگاتے ہیں۔ اور اینٹ اور پتھر کھاتے ہیں۔ ہاں ایک کتا لیلی کا بھی تھا۔ لوگ لیلیٰ تک پہنچنے کے لئےاس سے پیار کرتے تھے۔ اس کی خوشامد کرتے تھے جس طرح صاحب کے سیکریڑی یا چپراسی کی کرنی پڑتی ہے۔

آدمی

دودھ دینے والے جانوروں میں پالنے لئیے سب سے اچھا یہ ہے۔ یہ نوکری کرتا ہے، دوکان کرتے ہے، تنخواہ لاتا ہے، بچے کھلاتا ہے، انھیں پیٹھ پر بٹھاتا ہے۔ عجیب شکلیں بنا کر ہنساتا ہے، بہلاتا ہے۔ اپنی مادہ کی خدمت میں جتنی دوڑ دھوپ یہ کرتا ہے کوئی اور جانور نہیں کرتا۔ اسی لئے تو اس کے سینگ غائب ہو گئے ہیں، کھر گھس گئے ہیں اور دُم جھڑ گئی ہے۔

اس جانور کا پالنا اور سدھانا سب سے آسان ہے۔ اسے طوطے کی طرح بولنا بھی سکھا سکتے ہیں۔ ایک آسانی یہ بھی ہے کہ گھر مین اس کے لیے الگ تھان یا پنجرہ بنانے یا زنجیر ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کمرے میں چاہو سُلا دو بھاگتا نہیں۔

شیر

شیر آئے، شیر آئے، دوڑنا
آج کل ہر طرف شیر گھوم رہے ہیں۔
دھاڑ رہے ہیں۔
!یہ شیرِ بنگال ہے
!!یہ شیرِسرحد ہے
!!یہ شیرِپنجاب ہے
لوگ بھڑیں بنے اپنے اپنے باڑوں میں دبکے ہوئے ہیں
بابا حفیظ جالندھری کا شعر پڑھ رہے ہیں
” شعروں کو آزادی ہے
آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں، چیریں پھاڑیں
کھائیں پئیں آنند رہیں”
شیر یا تو جنگل میں ہوتے ہیں
!یا چڑیا گھر میں
،یہ مُلک یا تو جنگل ہے
!یا چڑیا گھر ہے
!یا پھر قالین ہوگا
یاپھر کاغذ ہوگا
کیونکہ ایک شیر کاغذی بھی ہوتا ہے
یا پھر یہ جانور کچھ اور ہیں
آگا شیر کا، پیچھا بھیڑ کا
ہمارے ملک میں یہ جانور عام پایا جاتا ہے۔
شیر جنگل کا بادشاہ ہے
لیکن اب بادشاہوں کا زمانہ نہیں رہا
اس لیئے شیروں کا زمانہ بھی نہیں رہا
آج کل شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی نہیں پیتے
بکریاں سینگوں سے کُھدیڑ بھگاتی ہیں۔
لوگ باگ ان کی دُم میں نمدہ باندھتے ہيں۔
،شکاری شیروں کو مار لاتے ہیں
اُن کے سر دیواروں پر سجاتے ہیں
ان کی کھال فرش پر بچھاتے ہيں
اُن پر جوتوں سمیت دندناتے ہیں
لوگوں کو فخر سے دکھاتے ہیں
میرے شیر تجھ پر بھی رحمت خدا کی
تو بھی وعظ مت کر
!اپنی کھال میں رہ

تحرير ابنِ انشاء

چینی

 

ہم چینیوں کے سب سے قریبی ہمسائے ہیں ۔ مگر وہ صرف ہمارے ہی نہیں سب کے قریبی ہمسائے ہیں ۔ کیونکہ وہ دُنیا کو برابری کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ چینی ہیں تو مخلوقِ خدا مگر وہ اپنے آپ کو صرف مخلوق ہی سمجھتے ہیں ، مخلوقِ خدا نہیں ۔ اور اُن کو پہلی بار دیکھا جائے تو اُن کی بات سچی لگتی ہے یعنی کہ خدا کی مخلوق لگتی ہی نہیں ۔ لگتا ہے ایویں ہی خلق ہوئے ہیں ۔ مجھے تو اُن کی خلقت پر بھی شک ہے ۔ لگتا ہے کہیں سے نازل ہوئے ہیں یا اِس دنیا کے لیے بطورِ عذاب بھیجے گئے ہیں ۔ تعداد میں اتنے ہیں کہ انسان گنتی بھول جائے ۔ ایک ہی طرح کے لوگ اتنی تعداد میں دیکھ کر گنتی تو کیا انسان سب کچھ بھول جائے ۔ ذرا فاصلے سے مرد و زن میں تمیز انتہائی مشکل ہے ۔ اور نزدیک آ کر تو یہ مرحلہ مشکل تر لگتا ہے ۔ پہلی نظر میں مرد و زن میں تمیز کا جو پیمانہ مقرر ہے ، چینیوں کے ساتھ اکثر اوقات وہ بھی غائب ۔ ایسے وقت میں یا مستجاب دُعا کام آ سکتی ہے یا وہ چینی خود ۔ جو اپنی جنس بتا دے ۔

صفائی کا بڑا خیال رکھتے ہیں مگر کھبی آپ کو صاف نظر نہیں آئیں گے ۔ موسم جیسا بھی ہو رات کو سونے سے پہلے ضرور نہائیں گے اور ننگے سوئیں گے ۔ تہذیب کا خیال رات گیارہ بجے تک رکھتے ہیں ۔ اگر گیارہ بجے کے بعد آپ جاگ رہے ہیں ۔ تو آپ کے سامنے سے ننگے ہو کر گزریں گے اور ہاتھ اُٹھا کر گوروں کی زبان میں شب بخیر بھی کہیں گے ۔ یہ نظارہ دیکھ کر تو ”شب بخیر” کے الفاظ ہی بے معنی ہو جاتے ہیں ۔ اب شب کیسی اور خیر کیسی؟ ایسی حالت میں تو ان کو ”شبِ شر” کہنا چاہیے ۔ رات کا کھانا گرمیوں میں سات بجے اور سردیوں میں چار بجے کھاتے ہیں ۔ نہیں معلوم اس کو رات کا کھانا کیوں کہتے ہیں بلکہ اس پر تو گوروں کی زبان کا لفظ ”سَپر” بھی صادق نہیں آتا ۔ یہی وہ مقام ہے جب سورج کو اپنے سست روی پر افسوس ہوتا ہوگا ۔
آگر کہیں دو سے زیادہ چینی تشریف فرما ہوں اور اپنی بولی بول رہے ہوں تو آپ کو لگے گا کہ جیسے اس وقت آپ کسی کارخانے میں کھڑے ہیں ۔ جہاں پر مشینوں اور انسانوں کی ملی جُلی آوازیں مدغم ہو کر آپ کی سماعت تک پہنچ رہی ہیں ۔ اگر تو ان کو بولتے اپ دیکھ رہے ہیں تو آپ یہی سوچیں گے کہ ان میں ایک اب کے اُٹھ کر دوسرے پر حملہ کر دے گا ۔ یہ اظہارِ خیال ہم اکثر پٹھانوں کے بارے میں کرتے تھے ۔ کیونکہ چینی ہم نے دیکھے جو نہیں تھے ۔ ایک دفعہ کینیڈا کا ایک بڑا عہدے دار ہمارے کام کا معائنہ کرنے آتا ہے ، جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس کو مختلف زبانوں پر بڑا عبور حاصل ہے ۔ ایک دِن میں نے اُس کے ساتھ یہ بات چھیڑی اور پوچھا کہ آپ کو کتنی زبانیں آتی ہیں اور آیا چینی بھی آپ بول لیتے ہیں؟ جواب میں وہ مختلف زبانوں کا ذکر کرنے لگا جو اُس کو آتی تھیں ۔ پھر کہتا ہے مجھے چِنگلش بھی آتی ہے ۔ میں نے کہا یہ کونسی زبان ہے؟ وہ مُسکرا کر کہنے لگے کہ جو انگریزی چینی بولتے ہیں وہ چنگلش ہے ۔ اور رہی چینی زبان کی بات تو مجھے تو کیا خاک سمجھ آئے گی ۔ بلکہ میرا تو خیال یہ ہے کہ ان کو خود بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ ایک دوسرے سے کیا بول رہے ہیں ۔ واقعی انگریزی یہ لوگ ایسے بولتے ہیں جیسے اپنی مادری زبان ۔ اگر اپ کا وقت ان کے ساتھ نہیں گزرا تو آپ کو ایک لفظ کی بھی سمجھ نہیں آئے گی ۔ میرے نام کا تو یہ لوگ حشر کر دیتے ہیں ۔ کچھ طائب کہتے ہیں تو کچھ صرف طب ۔ ایک چینی مجھے کہتا ہے ، طب تمھارا نام بڑا مشکل ہے ۔ میں نے کہا آگر میرے نام کو اگر اردو میں لکھا جائے تو صرف تین حروف بنتے ہیں یعنی کہ ” ط ے ب” اور اگر انگریزی میں لکھا جائے تو پانچ بنتے ہیں ۔ مگر آپ کے نام کا کیا کیا جائے ۔ ”چانگ شو وائے جی” ، جس سے نہ صرف انگریزی پناہ مانگتی ہے بلکہ چینی کے سوا ہر زبان اس کو جگہ دینے سے قاصر ہے ۔ ہنس کے کہنے لگا کہ یہ تو چین میں بڑا خاندانی نام تصور کیا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ ایسا نام صرف چین میں ہی خاندانی تصور کیا جا سکتا ہے ۔ چینیوں کے نام کے حوالے سے مجھے ”گل نوخیز اختر صاحب” کا ایک مضمون یاد آگیا ۔ جس میں وہ رقمطراز ہیں کہ ۔ ” چینی بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اُس کی ماں اُس کے سرہانے پڑی کوئی بھی چیز اُٹھا کر زمین پر پھینک دیتی ہے ۔ اس چیز کے پھینکنے سے جس قسم کی آواز پیدا ہوتی ہے ۔ وہ بچے کا نام رکھ دیا جاتا ہے” ۔

چینی روایت پسند بھی بہت ہیں ۔ ہمارے ایک بڑے چینی عہدے دار سے میں نے پوچھا ۔ کہ آپ سگرٹ کیوں پیتے ہیں ؟ ۔ کہنے لگے کہ میں ایک ذمہ دار افسر ہوں اِس لیے مجھ پر کام کا دباؤ اتنا ہوتا ہے کہ میں سگرٹ پیتا ہوں ۔ میں نے کہا یہ تو کوئی منطق نہ ہوئی سگرٹ پینے کی ۔ کہنے لگا کہ اس لیے بھی پیتا ہوں کہ ماؤ (ماؤزے تنگ) بھی پیتا تھا ۔ میں نے کہا مجھے پتا ہے کہ ”جناح” بھی پیتا تھا مگر میں ”جناح” کی وجہ سے سگرٹ کیوں پیوں؟ کہنے لگا کہ ہم روایت پسند ہیں ۔ چینی اور عینک آپسمیں لازم و ملزوم ہیں ۔ نظریں کمزور ہونے کے باوجود کام ایسے بصیروں والے کرتے ہیں ۔ کہ آبادی کی گنتی حکومت کے لیے ایک مسئلہ ہے ۔ اِس لیے چینی حکومت نے ایسے بصیروں پر ایک بچے کی پابندی لگائی ہے ۔ عینک کے بغیر اگر چینی نظر آ جاتا ہے ۔ تو دِل کرتا ہے اُسے چینی تسلیم ہی نہ کروں ، بلکہ اُسے کوئی اور نام دوں ۔ کیونکہ اُس نے روایت شکنی جو کی ہوتی ہے ۔

چینی زبان کے بعض الفاظ اردو سے ملتے جلتے ہیں ۔ اِس لیے چینی اُردو جلدی سیکھ لیتے ہیں ۔ ایک چینی کا نام مجھے ”مسٹر ما” معلوم ہوا ۔ چینی جب اُسے پکارتے ہیں تو مجھے ”ما” کی بجائے ”ماں” لگتا ہے ۔ مگر اُسے دیکھنے کے بعد ”ماں” جیسا خوبصورت لفظ تو کیا ، انسان ہر رشتہ بھول جاتا ہے ۔ ایک چینی سے پوچھا ، تمھارا کیا نام ہے ؟ کہنے لگا ”لوہا” ۔ میں نے کہا اُردو میں اس کا مطلب ہے  ”آئرن” ۔ کہنے لگا مجھے پتہ ہے ۔ اِس لیے میرا جسم بھی لوہے کی طرح سخت ہے ۔ لوہے کا تو مجھے نہیں پتہ مگر جسم کے نام پر وہ ایک سیاہ دھبہ تھا ۔ چینی گاڑی میں بیٹھتے ہی سو جاتے ہیں ۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ ۔ وہ کہنے لگا ، ساری زندگی ان کی سائیکل چلاتے گزری ہوتی ہے اور سائیکل پر تو سونے سے رہے ۔ اس لیے سائیکل کے علاوہ ہرچار پہیوں والی سواری ان کے لیے دنیا کی آرام دہ سواری اور جھولا ہوتی ہے ۔

چینیوں میں کچھ مثالی خوبیاں بھی ہیں ۔ انتہائی جفاکش قوم ہے ۔ کسی چیز کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو یا تو وہ سیکھ جاتے ہیں یا خود ختم ہو جاتے ہیں ۔ آخر غیرت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے نا ۔ مگر ایک خوبی جو مجھے بہت بھاتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اپنے ملک و قوم کے لیے پہلے سوچتے ہیں اور اپنی ذات کے لیے بعد میں ۔

طیب
 

3199513-md.jpg

”تمھاری یہ جُرات کہ تم میرے باپ کو فضول اور بے ہودہ انسان کہہ رہے ہو۔۔۔؟”

”تو اور کیا کہوں؟ میں ان سے تمھارا رشتہ مانگنے گیا اور میں نے کہہ دیا کہ میں تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس پر

وہ بولے ، کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جنازے کا خرچا میں اُٹھا لوں گا”۔

نیا لباس

 

ہالی وڈ میں ایک اداکارہ سے اس کی سہیلی نے پوچھا، ”تمھارے شوہر نے آج نیا لباس پہنا ہے کیا؟”۔

”نہیں ۔۔۔۔۔۔ لباس نیا نہیں ہے”۔ اداکارہ نے اس کی غلط فہمی دور کی۔

”اچھا ۔۔۔۔۔ ؟” سہیلی نے قدرے حیرت سے کہا۔

”لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال  ۔۔۔۔۔۔ آج اس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے”۔

”اصل میں یہ سوٹ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ شوہر نیا ہے”۔ اداکارہ نے بتایا۔

عید ملنا

                                                                                                       3199513-md.jpg          

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا، اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللّہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچّے اتنے تھے کے بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا سکول میں آگیا ہے۔ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچّے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن میں 550 گیلن نکالتے۔وہ مجھے بھی اپنے بچّوں کی طرح سمجھتے یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچّوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حلانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کے مسلمان بچّے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ایک روز ہم لڑ رہے ھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچّوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔
” کیوں لڑ رہے ہو “

ہم چپ ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ” چلو گلے لگ کر صلح کرو “۔ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے لوگوں کو عید ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔
عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔پہلی بار انسان اس دن گلے ملا، جب خُدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے مماز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔

ہمارے یہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عید ملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔

عید کے دن خوشبو لگا کر عیدگاہ کا رُخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آرہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگا کر جاتا ہوں۔عید مل مل کر وہی حال ہو جاتا ہے جو سو میٹر کی ھرڈل جیتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر کہتے ہیں
” جی ! کس سے ملنا ہے “

سیاستدان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پہ نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے وہ عید مل کر آگے بڑھتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرضِ نسیان کا علاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا
” اب تو نہیں بھولتے آپ “
” بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور کیوں پوچھ رہے ہیں ”

وہ سابق گورنر بھی عید پر معززیں سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا سو واپس لوٹ آیا۔

شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی دونوں موقعوں پرشعر کہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لئے شاعر عید ملنے کے لئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھاپائی ہے۔

بچّے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لئے ان کو عیدی ملنا ان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہو کر عید ملتی ہیں، لیکن جہان چار عورتیں اکٹھی ہوں ویاں وہ ایک دوسرے سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لئے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ” عید ملنا ” نہ شروع کر دیں۔

عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مُٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللّہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سینما گھروں میں بھی عئد ملنے جاتی تھی۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک میں نے عید پر سو پاؤنڈ کم کئے۔

 

                ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ” افرتفریح ” سے اقتباس ۔۔۔