موسم

 


کوئی موسم ہو دل میں ہے تمھاری یاد کا موسم
کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمھارے بعد کا موسم
 
نہیں تو ازما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے
تمھارے مسکرانے سے دِلِ ناشاد کا موسم

صدا تیشے سے جو نکلے ، دلِ شیریں سے اُٹھی تھی
چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم

پرندوں کی زباں بدلی کہیں سے ڈھونڈ لے تو بھی
نئی طرزِ فغاں اِئے دل کہ ہے ایجاد کا موسم

رُتوں کا قاعدہ ہے وقت پہ یہ آتی جاتی ہیں
ہمارے شہر میں رُک گیا فریاد کا موسم

کہیں سے اُس حسیں آواز کی خوشبو پکارے گی
تو اُس کے بعد بدلے گا دلِ برباد کا موسم

قفس کے بام و در میں روشنی سی آتی جاتی ہے
چمن میں آ گیا شاید لبِ آزاد کا موسم

نہ کوئی کام خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم

جب تصوّر میرا چُپکے سے تجھے چُھو آئے

 

جب تصوّر میرا چُپکے سے تجھے چُھو آئے
اپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خُوشبو آئے

پیار نے ہم میں کوئی فرق نہیں چھوڑا باقی
جھیل میں عکس تو میرا ہو نظر تُو آئے

مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تھکتے رہنا
رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے

جب کھبی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کو
میری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازُو آئے

جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہوگی روشن
مُجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جُگنو آئے

کتنا حساس میری آس کا سناٹا ہے
کہ خاموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگھرو آئے

مجھ سے ملنے کو سرِ شام کوئی سایہ سا
تیرے آنگن سے چلے اور لبِ جُو آئے

اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیل
وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادُو آئے

یہ مشغلہ ہے کسی کا

 

 


یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

میری بساط ہے کیا میں ہوں برگِ آوارہ
اُڑا کے لے چلے مجھ کو جدھر ہوا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجمان بن کر
اُس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

ہزاروں ڈوبنے والے بچا لیئے لیکن
اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے

12.jpg

 

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
تم سے جتنے سُخن ہمارے تھے

رنگ و خوشبو کے، حُسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے

تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور ہی سہارے تھے

جب وہ لعل و گوہر حساب کیے
جو تیرے غم نے دِل پہ وارے تھے

میرے دامن میں آ گرے سارے
جتنے طشتِ فلک میں تارے تھے

عُمرِ جاوید کی دُعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے

2q0kq6q1.jpg

خالِ لب کا تیرے ہمدم میں گرفتار ہوا
چشمِ بیمار جو دیکھا تیرا بیمار ہوا

 

خود سے بے خود ہوا اور سازِ ان الحق چھیڑا
مثلِ منصور خریدار سرِ دار ہوا

 

درِ میخانہ مجھ پہ یار کھلا رہنے دو
مسجد و مدرسہ، منبر سے میں بیزار ہوا

 

مجھ پہ دِل توڑ کے ناصح نے مصائب توڑے
خیر ایک رندِ بلا نوش مد د گار ہوا

« Older entries