کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو
بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو
آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں
میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو
May 26, 2007 at 5:52 am (قطعہ)
کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو
بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو
آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں
میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو
May 11, 2007 at 7:39 am (قطعہ)
برسوں کے انتظار کا انجام لکھ دیا
بکھری پڑی تھیں ٹوٹ کے کلیاں زمیں پر
کاغذ پہ شام کاٹ کے پھر شام لکھ دیا
ترتیب دے کے میں نے تیرا نام لکھ دیا
May 7, 2007 at 12:28 pm (قطعہ)
میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اُس نے
سبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اُس نے
پہلے اک لمحے کی زنجیر سے باندھا مُجھہ کو
اور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اُس نے