آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں


کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو
بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو

آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں
میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو

ایک قطعہ

 

برسوں کے انتظار کا انجام لکھ دیا
کاغذ پہ شام کاٹ کے پھر شام لکھ دیا

بکھری پڑی تھیں ٹوٹ کے کلیاں زمیں پر
ترتیب دے کے میں نے تیرا نام لکھ دیا

ایک قطعہ

میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اُس نے
سبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اُس نے
پہلے اک لمحے کی زنجیر سے باندھا مُجھہ کو
اور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اُس نے