ا یک دُ ھن

 

اِس دُھن کا ذکر میں ”خالق و مخلوق” میں کر چُکا ہوں ۔ اب یہ دُھن آپ کی سماعتوں کی نظر کر رہا ہوں ۔ دیکھئیے ، سُنئیے اور اپنی آرا سے نوازیں ۔

تُو تھام لے جو د امن


 

میری آوارگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

مدہوشی تنہائی ہے

بے چینی سی چھائی ہے

شام سویرے ہر لمحہ

یاد مجھے تیری آئی ہے

نہ جا نہ جا ، ایسے میں کہیں نہ جا

نگاہوں میں بسا لے تُو
مجھے

آ جا آ جا

آجا او جانِ جاناں

پناہوں میں چھپا لے تُو

میری دِل کی لگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

کتنا دِلکش منظر ہے

چھایا ہے تیرا جادُو

دِلوں کی بے تابی ہے

نظروں میں ہے تُو ہی تُو

جاگی جاگی

تمنا جاگی جاگی

خیالوں پہ بھی چھایا نشہ

لاگی لاگی

لگن ایسی لاگی

کہیں بھی اور لاگے نہ جیا

میری ہر تُشنگی

میری دیوانگی

کو ذرا چین آئے صنم

تُو تھام لے جو دامن

سنبھل جائیں گے قدم

یہ مشغلہ ہے کسی کا

 

 


یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

میری بساط ہے کیا میں ہوں برگِ آوارہ
اُڑا کے لے چلے مجھ کو جدھر ہوا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

جو اصل چہرہ دکھاتا ہے ترجمان بن کر
اُس آئینے کی طرف کون دیکھنا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

ہزاروں ڈوبنے والے بچا لیئے لیکن
اُسے میں کیسے بچاؤں جو ڈوبنا چاہے

نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

راگ درباری کنڈہ

موسیقی کے شائقین کے لیے ایک انمول تحفہ۔ اُستاد سلامت علی خان، اُستاد شرافت علی خان اور اُستاد فتح علی خان ”راگ درباری کنڈہ گا رہے ہیں جبکہ مشہور طبلہ نواز شوکت حسین طبلہ بجا رہے ہیں۔ دیکھیے، سُنیے اور لُطف اندوز ہوں۔