ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح

 

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں
سوچنے کے لیے ایک رات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے

آج کی رات میرا دردِ محبت سُن لے
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سُن لے
آج اظہارِ خیالات کا موقع دے دے

بھلانا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا
بےوفا تُو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھا
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے

تکیے کے پاس سرخ پیالے میں آگ تھی


جب ایک دن وہ سرخ پیالے کے پاس تھی

تھامے ہوے تھے ہاتھ میں اس نے سفید پھول

پھیلی ہوئی تھی فرش پہ سرما کی نرم دھوپ

تھے دور آسمان پہ بادل رکے ہوے

بیٹھی ہوئی تھی گھاس میں تتلی تھکی ہوئی

پیڑوں میں تھے اداس پرندے چھپے ہوے

رستے کے ساتھ ساتھ ہوا محوِ خواب تھی

کمرے میں میز پر تھے ستارے گرے ہوے

دیوار پہ فریم میں بارش کی رات تھی

بستر پہ سو رہا تھا محبت کا سرد گیت

تکیے کے پاس سرخ پیالے میں آگ تھی

محبت جیت ہوتی ہے


محبت جیت ہوتی ہے

مگر یہ ہار جاتی ہے

کھبی دِل سوز لمحوں سے

کھبی بیکار رسموں سے

کھبی تقدیر والوں سے

کھبی مجبور قسموں سے

کھبی یہ خواب ہوتی ہے

کھبی بیتاب ہوتی ہے

کھبی یہ ڈر جاتی ہے

کھبی یہ مار جاتی ہے

محبت جیت ہوتی ہے

مگر یہ ہار جاتی ہے

حِسا ب


محبتوں میں شُمار کیسا

سوال کیسا

جواب کیسا

محبتیں تو محبتیں ہیں

محبتوں میں حساب کیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

تنہا ئی


میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں

تم ہوتیں تو کیسا ہوتا

تم یہ کہتیں

تم وہ کہتیں

تم اس بات پر حیران ہوتیں

تم اس بات پر کتنی ہنستیں

تم ہوتیں تو ایسا ہوتا

تم ہوتیں تو ویسا ہوتا

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں

« Older entries