June 30, 2007 at 11:51 am (نظم, گیت)
گیا زمانہ بُہت سُہانا
جو یاد آؤں تو لوٹ آنا
وہ آنکھوں آنکھوں میں بات کرنا
وہ باتوں باتوں میں رات کرنا
ہنسی چُھپانے کو لب کے آ گے
حسیں ، کومل سے ہاتھ رکھنا
کھبی ہنسانا
کھبی رُ لانا
جو یاد آؤں تو لوٹ آنا
ہمیں تمھاری ہی جستجو ہے
صرف تمھاری ہی آرزُو ہے
یہ بات تُم بھی کھبی تو سمجھو
ہماری چُپ میں بھی گُفتگو ہے
سمجھ سکو تو ہمیں بتانا
جو یاد آؤں تو لوٹ آنا
2 Comments
June 4, 2007 at 10:55 am (موسیقی, گیت)
میری آوارگی
میری دیوانگی
کو ذرا چین آئے صنم
تُو تھام لے جو دامن
سنبھل جائیں گے قدم
مدہوشی تنہائی ہے
بے چینی سی چھائی ہے
شام سویرے ہر لمحہ
یاد مجھے تیری آئی ہے
نہ جا نہ جا ، ایسے میں کہیں نہ جا
نگاہوں میں بسا لے تُو
مجھے
آ جا آ جا
آجا او جانِ جاناں
پناہوں میں چھپا لے تُو
میری دِل کی لگی
میری دیوانگی
کو ذرا چین آئے صنم
تُو تھام لے جو دامن
سنبھل جائیں گے قدم
کتنا دِلکش منظر ہے
چھایا ہے تیرا جادُو
دِلوں کی بے تابی ہے
نظروں میں ہے تُو ہی تُو
جاگی جاگی
تمنا جاگی جاگی
خیالوں پہ بھی چھایا نشہ
لاگی لاگی
لگن ایسی لاگی
کہیں بھی اور لاگے نہ جیا
میری ہر تُشنگی
میری دیوانگی
کو ذرا چین آئے صنم
تُو تھام لے جو دامن
سنبھل جائیں گے قدم
Leave a Comment
May 11, 2007 at 7:30 am (گیت)

آنکھوں میں سما جاوُ اِس دِل میں رہا کرنا
تاروں میں ہنسا کرنا پھولوں میں کھلا کرنا
جب سے تمھیں دیکھا ہے جب سے تمھیں پایا ہے
کچھ ہوش نہیں مجھ کو ایک نشہ سا چھایا ہے
آب بات جو کرنی ہو، آنکھوں سے کہا کرنا
اِئے کاش دھڑکتا دِل، کچھ دیر ٹہر جائے
یہ رات محبت کی، یونہی نہ گُزر جائے
باقی ہے ابھی تم پر، یہ جان فِدا کرنا
آنکھوں میں سما جاوُ اِس دِل میں رہا کرنا
قسمت نہ دیکھیے اب، گھڑیاں ہمیں فرقت کی
ہر رات یونہی چمکے، تقدیر محبت کی
اِئے چاند ستارو، تم مل کے دُعا کرنا
آنکھوں میں سما جاوُ اِس دِل میں رہا کرنا
Leave a Comment