محبت جیت ہوتی ہے
September 29, 2007 at 6:05 pm (نظم)

محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کھبی دِل سوز لمحوں سے
کھبی بیکار رسموں سے
کھبی تقدیر والوں سے
کھبی مجبور قسموں سے
کھبی یہ خواب ہوتی ہے
کھبی بیتاب ہوتی ہے
کھبی یہ ڈر جاتی ہے
کھبی یہ مار جاتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
حِسا ب
September 20, 2007 at 7:41 am (نظم)

محبتوں میں شُمار کیسا
سوال کیسا
جواب کیسا
محبتیں تو محبتیں ہیں
محبتوں میں حساب کیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
”محبت”
July 21, 2007 at 3:53 pm (بلاعنوان)
”محبت” کی تعریف مشکل ہے۔ اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ افسانے رقم ہوئے، شعراء نے ”محبت” کے قصیدے اور مرثیے لکھے۔ ”محبت” کی کیفییات کا ذکر ہوا۔ وضاحتیں ہوئیں۔ لیکن ”محبت” کی جامع تعریف نہ ہوسکی۔
”محبت” اِک بہت ہی پیارا اور اچھوتا سا لفظ ہے۔ یہ اِک ایسا لفظ ہے۔ جس نے انسان کو انسانیت سے متعارف کرایا۔ ”محبت” انسان کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ”محبت” انقلابی بنا دیتی ہے۔ ”محبت” ہمیں بلندیوں پر پرواز کرنے کے لیے پر عطا کرتی ہے۔ ”محبت” کسی فرض فریضے کو نہیں جانتی۔ فرض تو اِک بوجھ ہوتا ہے۔ اِک تکلیف ہوتی ہے۔ ”محبت” تو مسرت ہے، شراکت ہے۔ ”محبت” تو بلا تکلف ہوتی ہے۔
”محبت” کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عطا ہے، نصیب ہے، بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ زمین کے سفر میں آگر کوئی چیز آسمانی ہے۔ تو وہ ”محبت” ہے۔ سچ تو یہ ہے۔ کہ ”محبت” سے آشنا ہونے والا شخص ہر طرف حُسن ہی حُسن دیکھتا ہے۔ اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہء جاناں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں۔ وہ بے سبب ہنستا ہے اور روتا ہے بلا جواز۔
”محبت” قائم رہے تو فراق بھی وصال ہے۔ اور قائم نہ رہے تو وصال بھی فراق ہے۔ ”محبت” وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے۔ ”محبت” ہی تو ہے جو ہر قطرے کو قلزم سے آشنا کراتی ہے۔
یہ بات بھی کسی حد تک سچ ہے کہ ”محبت” کرنے والے کسی اور مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔ دراصل ”محبت” زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے۔ یہ قرآنِ فطرت کی الگ تفسیر ہے۔ ”محبت” ہو تو انسان کو اپنے وجود میں کائنات کی وسعتوں اور رنگینیوں سے آشنائی ہوتی ہے۔ ”محبت” کرنے والا اپنی ہستی کے نئے معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ باطنی سفر پر گامزن ہوتا ہے۔ زندگی کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں ”محبت” گویا اِک نخلستان سے کم نہیں۔ ”محبت” کے سامنے نا ممکن اور محال کچھ نہیں۔ ”محبت” پھیلے تو پورا کائنات اور سمٹے تو اِک قطرہ خُوں ہے۔
